خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 234
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳۴ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء دوائی کی قیمت بھی نہیں لیتے تھے لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے سونا چاندی عطا کیا ہوتا تھا وہ جب اُن سے علاج کروانے آتے تھے تو ان سے کہتے تھے کہ نکالو پانچ ہزار یا دس ہزار یا پندرہ ہزار روپے یعنی جتنا جتنا کوئی امیر آدمی ہوتا تھا اس سے اتنے ہی زیادہ پیسے وصول کر لیتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں ان کے اموال میں برکت بخشی تھی۔ان کے دل میں ایک جذبہ تھا کہ ہم نے غریب آدمی کی خدمت کرنی ہے۔ان کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ کوئی غریب بیمار محض غربت کے نتیجہ میں ہماری مہارت اور ہنر سے ( جو اللہ تعالیٰ کی عطا ہے ) محروم نہ رہے۔یہ تو میں نے احمدی ڈاکٹروں کا نام لے کر کہا ہے۔میری مراد اس سے وہ پیشہ ہے جسے ایک احمدی نے اختیار کر رکھا ہے۔اس کو ایک تو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ خدمت خلق کا جذبہ برقرار ر ہے۔دوسرے محنت کو اس کی انتہا تک پہنچادیا جائے۔پس احباب جماعت کو چاہیے کہ اس نئے مالی سال میں اپنی محنت کو اپنی تدبیر کو اور اپنی دعا کوانتہا تک پہنچادیں۔پچھلے سال کی تدبیر اور دعا کے نتیجہ میں (اگر وہ مقبول ہوئی تو ) آپ کو زیادہ تدبیر اور زیادہ دعا کرنے کی توفیق ملے گی۔اس لئے تم اس توفیق سے فائدہ اُٹھاؤ۔زیادہ تدبیر کرو، زیادہ دعائیں کرو اور اس چیز کو نہ بھولو کہ دنیا کی جو نعمتیں ہیں اُن سے اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کو محروم نہیں کیا بلکہ اُسے دُنیا کی ساری نعمتیں دے کر فرمایا کہ دیکھو! یہ اُخروی جنتوں کے دروازے کھولنے کی چابیاں ہیں ان سے فائدہ اُٹھاؤ اور اپنے لئے جنتوں کے سامان پیدا کرلو۔اگر دُنیا کی نعمتوں سے ہم محروم کر دیئے جاتے تو پھر جنتوں کے دروازے کھولنے کے لئے مسلمان کے ہاتھ میں کوئی چابی نہ رہتی۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے رہبانیت سے منع فرمایا ہے کیونکہ رہبانیت جس شکل میں اس وقت دنیا میں رائج ہے وہ جنت کے دروازہ کو بند کرتی ہے۔ویسے تو ذہنی طور پر ایک مسلمان کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ دُنیا سے اس کا کوئی تعلق اور کوئی دلچسپی نہ ہولیکن جیسا کہ دُنیا میں اس وقت رہبانیت رائج ہے۔اس شکل میں یہ جنت کے دروازوں کو بند کرتی ہے جیسا کہ دنیا کی ساری نعمتیں اگر ان کو اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور احکام کے مطابق خرچ کیا جائے تو یہ جنت کے دروازوں کو کھولتی ہیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیوی حسنات جنت کی حسنات یا