خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 216

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۱۶ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء ملک کا ایک بڑا حصہ کٹ گیا اس کا تجارتوں پر بھی اثر پڑا۔پھر جنگ سے متاثر ہونے والےلوگ تھے جنہیں اپنے گاؤں ، اپنے گھروں اور بہتوں کو اپنے سامان تک چھوڑنے پڑے۔جس کے نتیجہ میں بعض لوگوں کو جنگ سے متاثر ہونے والے اپنے بھائیوں، رشتہ داروں اور اپنے دوستوں کو پناہ دینی پڑی اور ان پر خرچ بھی کرنا پڑا۔ان ساری باتوں کو دیکھ کر اور ان حالات کی وجہ سے طبیعت فکرمند بھی ہوتی تھی اور دُعا کی طرف بڑی راغب بھی ہوتی تھی۔دراصل الہی سلسلے ٹھہر نا نہیں جانتے اور نہ آگے بڑھ کر پیچھے ہٹنا اُن کی فطرت میں ہے۔وہ تو آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ اُن کو اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے اور جب تک وہ اپنی قربانیوں میں اور اپنے ایثار میں اور اُس بے لوث محبت میں جو انہیں اپنے رب اور اپنے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوتی ہے ترقی کرتے چلے جاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ بھی انہیں اپنے فضلوں سے نوازتا چلا جاتا ہے۔بہر حال ملک میں ایک ہنگامہ تھا۔ایک غیر یقینی حالت تھی۔دُکھ کے سامان تھے۔بے چینی اور گھبراہٹ تھی۔گاؤں کے گاؤں اپنی جگہ سے اُٹھ گئے۔اس افراتفری کا تجارتوں پر اثر تھا۔کارخانوں پر اثر تھا۔پیشہ وروں کے پیشوں پر اثر تھا۔غرض اقتصادی زندگی در حقیقت درہم برہم ہو چکی تھی۔ہمارے احمدی دوست بھی ساری قوم کے ساتھ ان تکلیفوں میں حصہ دار تھے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے بڑی فکرمندی تھی کہ کہیں ان حالات کے نتیجہ میں جماعت کی مالی قربانیوں میں کمی نہ پیدا ہو جائے کیونکہ اس کے دو بداثرات پیدا ہوتے ہیں۔ایک تو جماعت کا جو کمز ورحصہ ہوتا ہے (ابھی میں اس کمزوری کی بات نہیں کر رہا جو نفاق سے مشابہت رکھتی ہے ) یا مجھے یوں کہنا چاہیے کہ جماعت کا جو کم تربیت یافتہ حصہ ہوتا ہے۔اس کے دماغ پر یہ اثر ہوتا ہے کہ شاید جماعت کا قدم ایک جگہ آکر ٹھہر گیا ہے یا پیچھے کی طرف ہٹ گیا ہے۔شیطان اُن کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔گواُن میں سے اکثر شیطان کے وسوسے سے اثر نہیں لیتے لیکن بعض لے بھی سکتے ہیں۔دوسرے ان حالات میں منافق اور کمزور ایمان والوں پر اس کا ایک تو یہ اثر پڑتا ہے کہ وہ