خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 212
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۱۲ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء بڑا ہی حسین بھی ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی عظیم ہستی کی زبانِ مبارک سے یہ کہلوانا کہ میں فرشتہ نہیں دراصل یہ ہمیں سبق دینے کے لئے ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كا عَبْدُهُ وَرَسُولُه کے حسین امتزاج کی رو سے جو بھی مقام ہے آپ اس مقام کو پہنچ گئے تھے۔پس عَبدُةُ میں یہ اعلان کیا کہ میں فرشتہ نہیں ہوں۔میں اپنے آپ کو معصوم اور بے خطا نہیں کہتا کیونکہ اگر مَعْصُوم عَنِ الْخَطاء ہونے کا دعویٰ ہوتا تو پھر آپ کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ اے عائشہ ! میں بھی جنت میں اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے جاؤں گا۔دوسری طرف یہ فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔آپ کے متعلق پہلے انبیاء نے بھی دعائیں کی تھیں اور یقین کیا تھا کہ آپ ایسے رسول ہوں گے جو ویڈ کیکھ کے مصداق ہوں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! وہ (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ایسے رسول ہوں گے جو اپنی طہارت اور پاکیزگی کے بلند مقام پر فائز ہوں گے اور یہ مقام انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوگا اور اس اعلیٰ مقام کی وجہ سے وہ تمہاری پاکیزگی اور طہارت کے سامان پیدا کرنے والے ہوں گے۔یہ رسُوله کی ندا ہے۔هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً کے ایک معنی تو وہ ہیں جو ملک کے دونوں معنوں پر ہاوی ہے۔یہ آگے تفسیر کے طور پر میں نے بتا دیا ہے۔دوسری جگہ زیادہ وضاحت کے ساتھ ، زیادہ تکرار کے ساتھ اور زور دینے کے لئے یزکیھم اور یزکیکم کے الفاظ آگئے ہیں۔پس عبدہ کے مقام کی رو سے یہ اعلان کروایا گیا کہ میں فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں جب کہ رسوله کے مقام کی رو سے یہ اعلان کروایا گیا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے قرب کا مجھے وہ مقام عطا فرمایا ہے کہ میں تمہارے گند دور کروں گا اور غلاظتوں کو دھو کر انہیں صاف کر دوں گا اور تمہیں پاک اور مطہر بنادوں گا۔چنا نچہ اُمت مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ امت میں سے جس شخص نے بھی آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے آپ کے عَبدہ کے مقام میں اسوہ‘ کے جو تقاضے تھے ان کو پورا کیا تو اس نے آپ کی وہ برکتیں جو رَسُولُہ کے مقام کی وجہ سے آپ کو حاصل تھیں و،