خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 191

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۹۱ خطبه جمعه ۲۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ء لحاظ سے ایک بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے ہو۔تم نے اپنے بھائیوں کے لئے دُکھ کا سامان پیدا کیا ہے۔بجائے اس کے کہ تم ان کے لئے راحت اور بشاشت اور سہولت کے سامان پیدا کرتے۔اللہ تعالیٰ کا دین ئیسر یعنی سہولت کا سامان پیدا کرتا ہے۔سہولت کے یہ معنے نہیں کہ چوری کرو اور کھا لو۔کئی تو عملاً ان معنوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔کیسر کا مطلب ہی یہ ہے کہ سارا ڈھانچہ ایسا ہے کہ جب وہ پختہ اور مضبوط ہو تو ایک مومن ہنستے کھیلتے بشاشت کے ساتھ قربانیاں کرتا چلا جاتا ہے۔جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جس دل میں ایمان کی بشاشت پیدا ہو جاتی ہے اسے پھر کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا تو ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس مومن کا جو ماحول ہے، وہ بشاشتیں پیدا کرنے والا ہے۔مومن جس نظام میں بندھ جاتا ہے وہ نظام بشاشت پیدا کرنے والا ہوتا ہے، ناجائز بوجھ ڈالنے والا نہیں ہوتا لیکن جب نظام کی کمزوری ہو یا نظام کی عدم توجہ ہو یا نظام کی غفلت یا نظام کی بے پروا ہی ہو تو نظام ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ بشاشت چھن جاتی ہے۔اس کے باوجود نانوے فی صد احمدی ایسے ہیں کہ پھر بھی ان سے بشاشت نہیں چھینی جاتی مگر تم نے ایک گناہ کا ارتکاب کر لیا اور تم سے مراد عہد یداران جماعت ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اکثر جگہ تھوڑی بہت شستی ہوتی ہے لیکن بعض جگہ اتنی زیادہ سستی اور غفلت سے کام لیا گیا ہے کہ میں بے حد پریشانی کے ایام میں سے گزرا ہوں۔تم نے پچیس فی صد کام کیا اور پچھتر فیصد بوجھ اپنے بھائیوں پر ڈال دیا جس کا جواز ہی کوئی نہیں تمہاری غفلت کے نتیجے میں جو تکلیف پیدا ہوئی ہے اس کا کوئی جواز نہیں اور تم خدا کے سامنے اس بات کے ذمہ دار اور جواب دہ ہو۔اب ایک مالی سال گزر رہا ہے اور دوسرا مالی سال شروع ہو رہا ہے۔سب کو اپنی اپنی جگہ سوچنا چاہیے کہ ہم کم سے کم ناجائز بوجھ ڈالیں۔کم سے کم میں اس لئے کہتا ہوں کہ بہر حال انسان کمزور ہے کمزوری بھی ہو سکتی ہے ورنہ، اصولاً تو یہ ہے کہ قطعا کوئی بوجھ نہ پڑے۔پس کم سے کم بوجھ ڈال کر احباب جماعت کے لئے زیادہ سے زیادہ بشاشت اور سہولت کے سامان پیدا کریں۔یہ سوچنا چاہیے کہ یہ سامان کس طرح مہیا ہو سکتے ہیں۔بعض جگہ میں نے دیکھا ہے کہ کاغذ سے زیادہ کام لیا جاتا ہے اور عقل اور عمل سے تھوڑا۔یہ