خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 190
خطبات ناصر جلد چہارم 190 خطبه جمعه ۲۸ ا پریل ۱۹۷۲ء اور کسانوں پر مشتمل ہے جن کو روزانہ یا دو دن بعد اجرت ملتی ہے یا بعض دفعہ مزدور کو جب سہولت ہو تو خود ہی کہتا ہے کہ میں نے تین دن تمہارا کام کرنا ہے تین دن کے بعد مجھے اکٹھی مزدوری دے دینا لیکن بہت سارے مزدور ایسے ہیں جو روزانہ کماتے ہیں اور روزانہ ہی ان کا خرچ ہوتا ہے۔بہر حال اس کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے اور اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے اسی کا سب کچھ ہے وہ سارا بھی لے لے تو کسی کو اعتراض نہیں۔عقلاً نہ کسی اور لحاظ سے جب وہ خدا کہتا ہے کہ جتنا بوجھ تم برداشت کر سکتے ہو میں اس سے زیادہ مشقت تمہارے اوپر نہیں ڈالوں گا جیسا کہ فرما یا لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ۲۸۷) جب قادر مطلق خدا کا یہ ارشاد ہے تو ایک عاجز انسان کو کون حق دے سکتا ہے کہ اپنے بھائی پر اس سے زیادہ بوجھ ڈال دے جتنا وہ برداشت کر سکتا ہے۔جب آپ انتظامی سستی کرتے ہیں جب آپ کا بھائی اپنی کمائی میں سے مالی قربانی دینا چاہتا ہے اور آپ اس سے وقت پر نہیں لیتے تو آپ اس پر ایسا بوجھ ڈالنا چاہتے ہیں جو اس کے لئے تکلیف اور تنگی کا موجب ہے اور نا قابل برداشت بوجھ کے احساس پر منتج ہوتا ہے۔اس سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ گناہ ہے جس طرح اور دکھ دینا اور ایذاء رسانی منع اور گناہ ہے اسی طرح یہ بھی منع ہے۔انتظام ایسا ہونا چاہیے کہ احباب جماعت نا قابل برداشت بوجھ سے بچ سکیں۔اس کی کئی شکلیں نکل سکتی ہیں جن کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاتا۔بہر حال کئی جگہ نہیں بلکہ اکثر جگہ کچھ نہ کچھ شستی ضرور ہو جاتی ہے اور بعض جگہ تو اتنی شستی ہوئی ہے کہ آدمی سوچ کر کانپ اُٹھتا ہے۔مثلاً ایک ضلع کا صدرانجمن احمدیہ کا کل چندہ پونے دو لاکھ کے قریب تھا اور اب اسی آخری مہینے میں مجھے پتہ لگا کہ اس میں سے وصولی پچاس ساٹھ ہزار ہے اور بقایا ایک لاکھ نہیں تیس ہزار کے درمیان ہے۔گو یا ضلع کے انتظام نے کام ہی کوئی نہیں کیا اور اب خط لکھ رہے ہیں کہ ہم بڑی کوشش کر رہے ہیں۔جو شخص قربانی دینے والا ہے وہ تو اپنے اوپر مصیبت ڈال کر بھی ( ناجائز مصیبت جو تم نے اس کے لئے پیدا کی ہے ) اور انتہائی قربانی دے کر بھی خدا کے حضور اپنے اموال پیش کر دے گا لیکن تم منتظم ہونے کے لحاظ سے اور جماعتی نظام کے عہد یدار ہونے کے