خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 163

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۶۳ خطبہ جمعہ ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء زندگی اور اوقات کو خرچ کرنے کا ایک ہی صحیح راستہ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔دراصل یہی حقیقی اور نیک اور مفید اور ثمرات پیدا کرنے والا خرچ ہے۔باقی اس حقیقی خرچ کے لئے سامان پیدا کرنے والی جو کوششیں ہیں یا اخراجات ہیں تو وہ بھی بالواسطہ نیکی اور بھلائی کا موجب ہیں لیکن اگر کسی کی کوشش یا اخراجات اس کے الٹ ہیں تو پھر یہ بھی اس کے لئے بالواسطہ بدی اور ہلاکت کا موجب ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو بھی مال تمہارے پاس ہے اور جسے تم نے اس دُنیا میں پایا ہے وہ ہم نے دیا ہے مگر تم اُسے ہماری راہ میں خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہو۔کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا یہ فعل، تمہاری یہ ذہنیت تمہارے لئے مفید ہے؟ یہ تمہارے لئے ہرگز مفید نہیں بلکہ یہ تمہارے لئے شر کا موجب ہے اور ہلاکت کا باعث ہے۔تم شاید یہ خیال کرتے ہو کہ تمہارے یہ بخل دُنیا میں دُنیا داروں سے چھپے رہیں گے اور لوگ تمہاری اس گندی ذہنیت سے ناواقف رہیں گے یا جب اللہ تعالیٰ اس دُنیا میں جنت کے سامان پیدا کرے گا اور یا اُس اُخروی زندگی میں جو مرنے کے بعد ملتی ہے اور جس میں بہترین شکل میں اور کامل طور پر جزاوسز املتی ہے یعنی جنت کی شکل میں یا جہنم کی شکل میں کامل جزا کے سامان پیدا ہوں گے تو اس وقت بھی تمہاری یہ بدیاں اور تمہاری یہ گندی ذہنیتیں چھپی رہیں گی تو تمہارا یہ خیال درست نہیں ہے کیونکہ تمہارا یہ بخل اور تمہاری یہ گندی ذہنیتیں تمہارے گلے کا ہار بنادی جائیں گی اور تم ان کو چھپا نہیں سکو گے۔تمہارے گلے کا یہ ہار تمہارے لئے زینت کا باعث نہیں بنے گا۔تمہارے گلے کا یہ ہار تمہارے لئے بدصورتی پیدا کرے گا۔تمہاری اندرونی بھیانک بدصورتی کو ظاہر کر رہا ہو گا۔یہ تمہارے لئے عزت کا باعث نہیں بنے گا بلکہ تمہارے لئے ذلت کا باعث بنے گا۔یہ لوگوں کو بتائے گا کہ تمہیں اس وجہ سے سزا مل رہی ہے اور سزا کی طرف تمہیں دھکیلا جارہا ہے کہ تم نے خدا تعالیٰ کی عطا اور مال کے خرچ کرنے میں بخل کیا اور وہ اس رنگ میں کہ اس کے خرچ کرنے کا جو حقیقی راستہ تھا تم نے اس کو چھوڑ دیا اور جو غلط راہیں تھیں ان کو تم نے اختیار کر لیا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اس میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے مال و دولت بھی