خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 148
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۴۸ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا - قُلْ إِنَّمَا ادْعُوا رَبِّي وَلَا أَشْرِكْ بِهِ أَحَدًا - (الجن : ۱۹ تا ۲۱) اور پھر فرمایا:۔کچھ گونج پیدا ہو رہی ہے کیونکہ لاؤڈ سپیکر کا انتظام عارضی ہے اور یہ دیکھنے کے لئے کہ کس قسم کے لاوڈ سپیکر یہاں زیادہ اچھے رہیں گے اس پر خاصا وقت لگتا ہے۔انشاء اللہ اس کا مستقل انتظام ہو جائے گا۔کل میں نے بھی آکر چیک کیا تھا۔مسجد کے بعض حصوں میں آواز صاف نہیں پہنچتی۔پوری توجہ سے سننے کی کوشش کریں جتنا سمجھ سکتے ہیں سمجھیں جتنا اخذ کر سکتے ہیں اخذ کریں۔ویسے تو ایک مومن کا دل ہر وقت ہی اپنے رب کی حمد سے بھر پور رہتا ہے مگر آج ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء سے اس لئے بھی لبریز ہیں کہ اُس نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کے بہت سے دوستوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے اس مسجد کے لئے مال بھی دیا، وقت بھی دیا، توجہ بھی دی اور محنت بھی کی اور ساری جماعت نے دعا ئیں بھی کیں۔جس کے نتیجہ میں ہمیں ایک نئی اور بڑی اور اچھی مسجد مل گئی ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔تاہم یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ آئندہ پانچ دس سال تک یہی مسجد ہمارے لئے کافی رہے گی لیکن چونکہ سامنے جلسہ سالانہ کا میدان ہے۔اس لئے امید ہے کہ کچھ وقت تک یہی مسجد ربوہ کی بڑی مسجد بنی رہے گی۔پھر اللہ تعالیٰ توفیق دے گا تو اور مسجدیں بھی بنتی رہیں گی۔در اصل مسجد میں صرف تین ہیں باقی مسجدیں تو ان کے اظلال ہیں اور یہ تین مساجد حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مساجد ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے۔ان میں سے پہلی مسجد تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے حضرت آدم علیہ السلام کی بعثت کے وقت بنوا دی تھی اور جسے ہم مسجد حرام بھی کہتے ہیں، خانہ کعبہ بھی کہتے ہیں اور بیت اللہ بھی کہتے ہیں۔ویسے جہاں تک بیت اللہ کا تعلق ہے وہ تو ایک لحاظ سے ساری مساجد ہی بیت اللہ ہیں کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔اَنَّ الْمَسْجِد اللہ لیکن مسجد حرام کو بیت اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ مسجد ہے جو خدا تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے بھی