خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 144
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۴۴ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء تمہارے اندر کی یعنی اندرونے کی کمزوریاں بھی دیکھے گا کیونکہ تمہیں ننگا کر کے دُنیا کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور تمہاری ساری شیخیاں کرکری ہو کر رہ جائیں گی۔اس لئے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ فرمایا کہ اے ایمان کا دعوی کرنے والو! آطِیعُوا اللهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُول خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے چلے جاؤ۔اس وقت تک کہ تم اس دُنیا میں آخری سانس لو اور میں اس تسلسل کا مفهوم وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ سے نکالتا ہوں چنانچہ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ میں فرمایا کہ تم اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔کیونکہ نیکی کو سوائے بدی کے اور کوئی چیز ضائع نہیں کر سکتی۔بہر حال نیکی بدی کو ڈھانپ لیتی ہے۔ہر نیکی بدی کا کفارہ بن جاتی ہے۔ہر نیکی خدا تعالیٰ کی آنکھ میں قہر کو بدل کر پیار کے جذبات پیدا کر دیتی ہے۔لیکن اگر عمر کے آخری حصے میں نیکی کی بجائے بدی اباء اور استکبار ہو تو گویا سب نیکیاں رائیگاں چلی گئیں سب ضائع ہو گئیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو! آخری وقت تک آخری سانس تک خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اور رسول کے نائبین کی اطاعت کرتے چلے جانا تا کہ ایسا نہ ہو کہ ولا تُبْطِلُوا اعمالکم کی رو سے تمہارا انجام بخیر نہ ہو اور تمہارے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جائے اور تمہارے اعمال باطل اور ضائع ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں شیطان کے اس شر سے محفوظ رکھے۔اللہ تعالی محض اپنے فضل سے ہمیں فرشتوں کے پہرے میں رکھ کر ہمارا انجام بخیر کرے اور دُنیا کی کوئی طاقت اور دُنیا کی کوئی قوت اور دُنیا کے سارے اموال مل کر بھی ہمیں جھوٹا ثابت کرنے والے نہ ہوں۔( فَلَوْ صَدَقُوا اللہ میں جس کی طرف اشارہ ہے ) کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے مطابق ہم بچے ثابت نہ ہوں بلکہ عِندَ اللہ سچے ثابت نہ ہونے والے گروہ میں شامل ہو جا ئیں بلکہ ہم اس گروہ میں شامل ہوں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے مَنْ قَضَى نَحْبَهُ (الاحزاب: ۲۴) کیونکہ انہوں نے اپنے کام حسن سے، پیار سے، ایثار سے، فدائیت کے ساتھ اور عشق الہی میں مست ہو کر پورے کر دیئے اور اب وہ اپنے نیک انجام کو پہنچ گئے۔خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے نیک انجام کو پہنچے اور ہمیشہ ہر حالت میں ثابت قدم