خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 142
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۴۲ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء کئی محد ثین کی شکل میں آئے اور کئی خلفاء کی شکل میں آئے۔دراصل تو خلافت ہی ہے لیکن خلافت کی آگے کئی شکلیں بن جاتی ہیں۔غرض جو سلسلہ خلافت اس وقت قائم ہے اور پہلے بھی تھا کئی بزرگ اس شکل میں بھی آئے۔لیکن خلافت ہی کی جو دوسری شکلیں ہیں اُن میں بھی آئے جیسے محدثیت ہے یہ بھی خلافت ہی کی ایک شکل ہے یا ان میں سے اولیاء اللہ اور مقربین الہی ہیں۔اللہ تعالیٰ جن کو یہ کہتا ہے کہ اس محدود دائرہ میں اس تھوڑے سے وقت میں تم میرے بندوں کی اصلاح کرو اور میرے دین کی مدد کرو تو اگر اُن کا اپنا کوئی وجود ہو یا اگر اُن میں سے کوئی یہ سمجھے کہ میرا کوئی مستقل وجود ہے تو وہ احمق اور ہلاک شدہ ہے۔روحانی لحاظ سے زندہ اور قائم اور زندگی دینے والے اور قائم رکھنے والے خدا تعالیٰ کے حکم (اصل تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس کے حکم ) اور اس کے منشاء اور اس کے فیصلہ کے مطابق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنی حی و قیوم صفات کا آپ کو متصف بنادیا ہے۔تب ہی تو یہ فرمایا اے محمد ! تو دنیا کا نور ہے۔تب ہی تو فرمایا ہے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کی طرف آؤ وہ تمہیں زندہ کرتا ہے۔اگر آپ حی کی صفت کے مظہر اتم نہ ہوتے تو لوگوں سے یہ نہ کہا جا تا کہ اس آواز پر لبیک کہو کہ یہ تمہیں زندہ کر دے گی۔پس عزم تو وہی ہے لیکن طفیلی طور پر نیابت میں دوسرے عزم بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ فَاِذَا عَزَمَ الأمرُ کی رو سے جس وقت امام وقت کوئی فیصلہ کرتا ہے تو ایک دوسرا گروہ بہک جاتا ہے یا جس وقت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلے کیا کرتے تھے تو منافق اور کمزور ایمان والے بہک جاتے تھے۔حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللهَ اس عہد کو جو انہوں نے کیا تھا اگر سچ کر دکھاتے اور اس موقع پر جو عزم کیا گیا ہے وہ اگر چہ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات اور ان کی مرضی اور ان کی سہولتوں کے خلاف تھا تو پھر بھی وہ کہتے کہ طاعة کا ہمارا عہد ہے۔یعنی ہمارا یہ عہد ہے کہ کسی صورت میں ہم اپنے منہ نہیں پھیریں گے اور پیٹھ نہیں دکھائیں گے فرما یا فلو صَدَقُوا اللهَ اگر وہ اپنے اس عہد کو پورا کر کے اپنے عہد میں سچے ثابت ہو جاتے ہیں لگانَ خَيْرًا لَّهُمْ تو ان کے لئے بھلائی ہی بھلائی کے سامان پیدا ہو جاتے لیکن اگر وہ