خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 101

خطبات ناصر جلد چہارم 1+1 خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ نے کھڑا ہی نہیں کیا۔ان کو تو اس نے ڈانٹا اور سمجھایا ہے کہ تم اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ ور نہ میرے قہر کے نیچے تمہیں شدید عذاب اُٹھانا پڑے گا۔پس یہ برکتیں بتاتی ہیں کہ خلیفہ خدا نے مقرر فرمایا ہے کیونکہ ایسی نصرت کے کام ایسی نصرت کے واقعات اور ایسی نصرت کے مظاہرے ہوتے ہیں کہ جن میں انسانی ہاتھ کا دخل نہیں ہوتا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ جس طرح اس نصرت میں انسانی ہاتھ نظر نہیں آرہا اسی طرح انتخاب خلافت میں انسانی ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان جو کہے اللہ تعالیٰ مجبور ہو جائے اور اس کی مدد اور نصرت کرنا شروع کر دے۔کیا تم اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کو مجبور کر سکتے ہو؟ نہیں! جب تک تم اس کے فضل اور رحم کو جذب نہیں کرو گے، تم اس کی مدد اور نصرت کس طرح لے سکتے ہو۔غرض اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بے شمار نظارے ہیں۔میں نے بتایا ہے دعاؤں کی قبولیت ہے جو ساری دُنیا پر پھیلی ہوئی ہے۔قبولیت دعا کے یہ نظارے ساری دُنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔دنیا اس پر حیران ہو جاتی ہے۔کئی ایک کے متعلق میں ذکر کر دیتا ہوں اور کئی ایسے بھی ہیں جن کا میں ذکر نہیں کرتا البتہ جہاں دُعا کے وہ واقعات رونما ہوتے ہیں۔وہاں ان نظاروں کو دیکھ کر خود ہی پتہ لگ جاتا ہے۔مگر اصل چیز تو یہ ہے کہ ان نظاروں کو دیکھ کر دُنیا کے دل میں اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت پیدا کی جائے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کی یہ مہم چلائی ہے۔چنانچہ افریقہ سے کئی خط آ جاتے ہیں کہ ہم عیسائی ہیں لیکن ہمیں یہ پتہ لگا ہے کہ آپ کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ہماری یہ مشکل ہے آپ اس کے لئے دعا کریں۔ایک دفعہ مشرقی افریقہ سے ایک سکھ کا خط آگیا کہ مجھے یہ ابتلاء در پیش ہے اور یوں تو میں غیر مسلم ہوں لیکن میں نے دیکھا ہے یا سنا ہے کہ آپ کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس لئے آپ میرے لئے دُعا کریں۔چنانچہ وہ دعا کے لئے خط لکھتا رہا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کا کام کر دیا اور اس کی پریشانیاں دور کر دیں۔پھر جب وہ مجھے خط لکھا کرے تو ساتھ ہی آخر میں مجھے یہ بھی لکھ دیا کرے کہ آپ کی دُعا سے میرا کام ہو گیا ہے۔میں نے یہ نظارہ دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی