خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 88 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 88

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء با ہر جا ہی نہیں سکتا اور پھر میاں طاہر نے وقف جدید کے کام کے لئے کراچی کا ایک سفر بھی نہیں کیا۔اب یہ محض اعتراض ہے کہ جس نے وقف جدید کے کام کے لئے کراچی کا کوئی سفر ہی نہیں کیا اُسے مثال کے طور پر پیش کر دیا اور مبلغین جن کے متعلق ہر روز نہیں تو ہر ہفتہ عشرہ یا پندرہ ہمیں دن کے بعد اخبار میں نکلتا ہے کہ فلاں دوست اشاعتِ اسلام کے لئے اور اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے باہر جار ہے ہیں وہ ہمیشہ ہوائی جہاز کے ذریعہ باہر جاتے ہیں مگر ان کے متعلق محض ایک فتنے والی بات کر دی گئی اور یہ جھوٹی بات کر کے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کی تصدیق کی 66 اور یہ اتنا مسخ شدہ جھوٹ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق ایسے آدمی کو اَسْفَلُ مِنَ النَّارِ " جانا ہی چاہیے۔اس بات کے کہنے والے کے الفاظ یہ ہیں :۔” جب کہ محض اشاعتِ اسلام کے لئے وطن سے باہر جانے والے مبلغین پر اتنا خرچ نہیں کیا جاتا کہ ان کو ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے کر دیا جائے“ غرض یہ منافقین ( جن کے متعلق میرا یہ اندازہ ہے کہ دس پندرہ ہوں گے کیونکہ ستر اسی لاکھ کی اس جماعت میں اس سے زیادہ کیا ہونے ہیں ) آجکل مختلف جگہوں پر کبھی خط کے ذریعے اور کبھی ویسے موقع مل گیا تو ایک دوسرے کے ساتھ باتوں باتوں میں اس قسم کے فتنے کی باتیں کرتے ہیں۔اب جس آدمی کے کان میں یہ بات پڑے گی کہ میاں طاہر ہوائی جہاز سے کراچی گئے اور ہمارے باہر جانے والے مبلغ ہوائی جہاز سے نہیں جاتے تو وہ نہ سہی مگر ہمارے کم عمر بچے جنہیں پتہ نہیں وہ کہیں گے یہ کیا بات ہوئی۔اُن کے دماغ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ باہر جانے والا مبلغ ہوائی جہاز سے نہیں جاسکتا۔اُن کو یہ پتہ نہیں لگ سکتا اور نہ اُن کو کبھی یہ خیال آیا ہے کہ یہ پوچھیں کہ میاں طاہر احمد صاحب نے کبھی وقف جدید کے لئے کراچی کا ہوائی جہاز کا سفر بھی کیا ہے یا نہیں۔باقی اور کاموں کے لئے تو وہ جاتے رہتے ہیں۔مشرقی پاکستان بھی وہ گئے ہیں۔یہاں سے سارے لوگ ہوائی جہاز سے جاتے تھے اس میں اُن کے لئے کوئی خصوصیت نہیں کیونکہ وہاں جانے کا یہی ایک ذریعہ تھا۔سوائے اس کے کہ آپ یہ سمجھیں کہ ہمارے کارکن اتنے نکتے