خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 84
خطبات ناصر جلد چہارم ۸۴ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء سورج طلوع ہوتے دیکھا ہے اور وہی وقت سورج طلوع ہونے کا ہو اور اُس نے واقعی سورج طلوع ہوتے دیکھا ہو تو یہ بات صحیح ہے لیکن یہ بات کہ میں نے آج سورج طلوع ہوتے دیکھا پوری نہیں ہوئی کیونکہ ساتھ ہی اُس نے یہ بھی کہا کہ میں نے مسجد کی طرف دس دس سروں والے انسان ہوا میں اُڑتے ہوئے دیکھے۔اس کی یہ بات سُن کر آپ یہ نہیں کہیں گے کہ اُس نے کچھ سچ بولا اور کچھ جھوٹ بولا ہے۔آپ یہ کہیں گے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے، اس واسطے کہ جو پوری بات ہے وہ جھوٹ ہے اگر چہ اس کے بعض حصے سچ ہیں کہ سورج طلوع ہوا۔ہر روز سورج طلوع ہوتا ہے اور یہ بھی سچ ہو سکتا ہے کہ اُس نے سورج طلوع ہوتے دیکھا ہولیکن اُس نے اس کو بنیاد بنایا اپنے جھوٹ کی اس لئے یہ ساری بات جھوٹ ہے۔پس ہم یہی کہیں گے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سچ فرمایا ہے کہ منافق جب بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی جو دھتکاری ہوئی قوم ہے اس کے اندر کا فر بھی ہیں۔اس میں کمزو ایمان والے بھی آجاتے ہیں۔غافل بھی آجاتے ہیں اور منافق بھی آجاتے ہیں۔غرض اپنے اپنے اخلاق اور کردار اور عمل کے لحاظ سے اُن پر خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں فرمایا میرا سب سے زیادہ غضب منافق پر بھڑ کے گا اور میرا سب سے زیادہ شدید عذاب اُسے ملے گا۔چنانچہ جب سے سلسلہ نبوت شروع ہوا ہے یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہمیشہ ہی الہی جماعتوں میں منافق رہے ہیں۔اُمت محمد یہ بھی منافقین کے وجود سے خالی نہیں ہے۔خود حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں منافقین موجود تھے جو بڑے ہی غالی اور خبیث قسم کے تھے۔اب ہم اُن کی باتیں سنتے ہیں تو ہماری آنکھوں میں خون اتر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق وہ اس قسم کی بکواس کیا کرتے تھے۔غرض اُس وقت جو منافق تھے اُن کے کارنامے یا اُن کی کرتوت اور فتنے اور فساد جن کی