خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 82
خطبات ناصر جلد سوم ۸۲ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۷۰ء پھیل گئی اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ایک آواز جو ایک منہ سے نکلا کرتی تھی اب وہی آواز لاکھوں کروڑوں کے منہ سے نکل رہی ہے سارے اکٹھے ہو کر کس طرح رائے دے سکتے ہیں یا ان سے رائے لی جاسکتی ہے نمائندگی کا اصول ہمیں چلانا پڑے گا مگر جب ضرورت ہو تو دوسری طرح بھی مشورہ ہو جائے گا۔پس شاورھم میں بتایا گیا ہے کہ جس طرح شہد کی مکھی پھول سے شہد کا استخراج اور ا جتنا کرتی ہے اسی طرح تم مومنین کی جماعت کی آراء کا استخراج کرو کیونکہ شاور کے معنے استخراج الرائے اور شَارَ الْعَسْلَ کے معنے اِسْتِخْرَاجُ الْعَسُل یعنی شہد کا نکالنا مثال بالکل واضح ہوگئی ہے ایک فرمایا کہ جس طرح اور جن سے چاہو آراء لو۔وہ جو دوسرا حصہ تھا کہ اپنی بیچ میں ملا کر اپنے جسم کی اپنی روح کی اور اپنے ذہن کی جب تک (اگر انسانی مثال ہو ) ساتھ نہ ملائی جائے شہر نہیں بنتا وہ مشورہ درست نہیں رہتا اس واسطے فَإِذَا عَزَمْتَ۔وہ عزم جو ہے وہ کھی والے Enzymes (انزائمز ) کی آمیزش ہے کہ جب آراء لے لیں وہ سامنے آگئیں پھر اپنے عزم اس کے اندر ملاؤ اور پھر وہ فیصلہ بنے گا ورنہ جب تک رسول یا نائب رسول کی اپنی رائے اپنا عزم اپنا فیصلہ اپنے Enzymes ( انزائمز ) ( اس مثال کے لحاظ سے جو پھول سے حاصل کیا گیا اور مومنین کی جماعت سے یا ان کے نمائندوں سے آراء کی شکل میں حاصل کیا گیا ) اس کے اندر شامل نہ ہوں۔اس وقت تک نہ شہد بنے گا اور نہ وہ جو آراء دیں وہ پختہ بنیں گی اور مفید ہوں گی اور نہ ایسی بنیں گی کہ جن کے اندر شفاء ہو اور شفاء میں بھی اللہ تعالیٰ نے دونوں کو برابر کر دیا۔شہد کے اندر بھی کہ دیا کہ اس کے اندر شفاء ہے اور جس رنگ میں احکام الہی کا اجراء کرنا ہے اس کے متعلق یہ کہا کہ اس کے اندر شفاء ہے۔پس تیسری چیز یہ بتائی کہ شاوِرُهُم خالی آراء کافی نہیں بلکہ خود دعا کر کے اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کر کے اور اپنی خدا داد فراست کو استعمال کر کے ( یہ کتنی قسم کی Enzymes (انزائمز ) ہیں اگر ان کو بطور مثال Enzymes ہی کہا جائے ) وہ ان آراء میں شامل کر و تب جا کر وہ چیز ایسا قوام اختیار کرے گی کہ بنی نوع انسان کے لئے وہ شفاء بن جائے گی تد بیرا اپنی