خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 66
خطبات ناصر جلد سوم ۶۶ خطبہ جمعہ ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء نوع انسانی اس قابل ہوئی کہ اگر وہ کوشش اور ہمت سے کام لے تو اپنے اپنے ظرف کے مطابق اپنی علمی استعدادوں کو کمال تک پہنچا سکتی ہے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ج خاتم الانبیاء ہیں وہی معلم اعظم ہیں اور کوئی نہیں ہوسکتا اور خاتم الانبیاء کے یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو علم آپ کو ملا کسی اور نبی کو نہیں ملا اور بنی نوع انسان کو علوم سکھانے کی جو قدرت آپ نے پائی وہ قدرت بھی کسی اور کو نہیں ملی۔پس آپ ہی خاتم الانبیاء ٹھہرے۔پھر ہم لوگ یہ جانتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے مربی اعظم ہیں آپ کے ہاتھ سے دنیا کا وہ فساد عظیم اصلاح پذیر ہوا جو آہستہ آہستہ مدارج تنزل میں سے گزرکر انتہائی طور پر بھیا نک اور مفسدا نہ ظلمات کی شکل میں انسان کے سامنے اس وقت آیا جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور اس فساد اعظم کی اصلاح کا کام آپ کے سپرد ہوا اور آپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ دنیا کی اصلاح کی اور انسان کو اس قابل بنایا کہ اگر وہ چاہے تو اس فساد عظیم سے جو دنیا میں رونما ہو چکا ہوا تھا ان وسائل کے طفیل جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ میں دیئے ہیں بیچ سکے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی چادر میں اپنے آپ کو لپیٹ لے۔انسان تو حید کو بھول چکا تھا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حید کو زمین پر قائم کیا۔آپ نے تمام مذاہب باطلہ کو حجت اور دلیل سے مغلوب کیا۔وہ جو گمراہ ہو چکے تھے ان کے شبہات مٹائے عقلی طور پر بھی اور مشاہدہ کے رنگ میں بھی اور ہر ملحد کے وساوس دور کئے اور نجات کا سچا سامان اس طرح پر انسان کے ہاتھ میں دیا کہ اصولِ حقہ (جو حقیقی اصول تھے روحانی اور جسمانی ان) کی اسے تعلیم دے دی اور اس طرح انسان کے لئے نجات کے سامان ممکن اور مقدر کر دیئے۔ہم جو حقیقت محمدیہ کو جانتے اور پہنچانتے ہیں اور اس بات پر علی وجہ البصیرت قائم ہیں کہ آپ ہی ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء ہیں۔ہم اپنے نفوس میں بھی یہ مشاہدہ کرتے ہیں اور ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ دنیا بھی اس بات کو سمجھنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا