خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 59
خطبات ناصر جلد سوم ۵۹ خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۷۰ء توجہ نہیں دے گی تو پھر مجھے توجہ دینی پڑے گی وہ تو طالب علموں کو اسا تذہ کو سمجھا ئیں گے لیکن جب میں سمجھاؤں گا تو مجھے ناظر تعلیم کو بھی سمجھانا پڑے گا جو میرے استاذ بھی ہیں لیکن فرض فرض ہے استاد کی عزت اپنی جگہ ہے وہ بھی ہم کریں گے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت اللہ تعالیٰ کو پیاری نہیں ہم اپنی طرف سے یہی کوشش کریں گے کہ ہمارا رب ناراض نہ ہو۔بہر حال آج کے بعد توجہ پوری ہو جانی چاہیے نتیجہ تو جب نکلے گا اس وقت پتہ لگ جائے گا کہ کتنی توجہ دی گئی ہے لیکن اخلاقی لحاظ سے تو میرے پاس ہر روز رپورٹ آجاتی ہے چاہے یہ رپورٹ ہو کہ سب ٹھیک ہے اور چاہے یہ رپورٹ ہو کہ کسی جگہ کوئی غلطی ہے۔رپورٹ دینے والے محکمے بھی ہیں اور افراد بھی ہیں ہم سب ایک جسم کی حیثیت رکھتے ہیں جیسا کہ میں شروع خلافت سے کہ رہا ہوں کوئی چیز چھپی نہیں رہتی کئی نادان ایسا نہیں سمجھتے اب مثلاً ڈاک ہے میں ساری ڈاک خود دیکھتا ہوں اور کئی دفعہ جن کو کسی محکمے سے کوئی شکایت پیدا ہو جائے وہ کسی کے ذریعہ خط بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے خط آپ تک پہنچنے نہیں دیئے جاتے حالانکہ سارے خط میرے پاس پہنچے ہوتے ہیں اور میں نے ان کو دیکھا ہوتا ہے۔پس یہ چیزیں جماعت پہنچانے والی ہے دوست ذرا ذراسی بات پہنچا دیتے ہیں کوئی چیز ووو چھپی نہیں رہتی نہ رہنی چاہیے ورنہ خلیفہ اور نا ئب اذن خیر نہیں رہتا۔غرض نیابت نبوت میں خلافت بھی کان ہے اور اس تک آواز میں پہنچتی رہتی ہیں کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکتی اور آخری ذمہ داری اس پر ہے اور اپنے رب سے ہر وقت سب سے زیادہ خوف کھانے والا میں سمجھتا ہوں وہی ہے کیونکہ ساری ذمہ داری جو اس پر ڈال دی بڑے استغفار اور تو بہ اور دعاؤں کے ساتھ زندگی کے دن گزارنے پڑتے ہیں اور سوائے خدا تعالیٰ کے خوف کے کسی کا خوف نہیں ہوتا اور سوائے خدا کی خوشنودی کے کسی اور جہت سے رضا کے حصول کی کوئی تمنا نہیں ہوتی اس واسطے اگر گرفت ہوگی تو بڑی سخت گرفت ہو گی صرف خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے ہو گی لیکن خدا کرے کہ ہماری آئندہ نسلوں کی جو ذمہ داری بعض احباب پر ڈالی گئی ہے