خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 527
خطبات ناصر جلد سوم ۵۲۷ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء دس دس ، ہمیں نہیں ہزار روپے چندہ ایک وقت میں دے دیتے ہیں پھر ان کے حالات بدل جاتے ہیں۔انہیں نقصان ہو جاتا ہے تو ہیں روپے تک دینے کے قابل نہیں رہتے ) خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرما یا کہ جب تمہیں ہمیں ہزار روپے دینے کی طاقت تھی تم نے دیا اور میں نے قبول کر لیا اور میں تمہیں اس کی جزا دوں گا لیکن جب تمہیں میں روپے دینے کی طاقت ہوگی تو میں قبول نہیں کروں گا۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ اُس نے یہ فرمایا ہے جتنی تمہاری طاقت ہے اتنا چندہ تم دے دو پھر جتنی میری رحمت ہے اس سے تم حصہ لیتے چلے جاؤ گے پس بندے کی اس قربانی اور خدا کی اس رحمت کا آپس میں کیا مقابلہ ہے۔خدا کرے کہ وہ ہمیشہ ہمیں بے حساب اجر عطا فرمائے۔اس کی رحمت کے دروازے رمضان میں خصوصیت سے کھلتے ہیں۔خدا کرے کہ ہمارے لئے ہمیشہ ہی اس کی رحمتوں کے دروازے کھلے رہیں۔خطبہ ثانیہ سے پہلے حضور نے فرمایا:۔نماز عصر سے قبل درس دینے والے دوست مولوی ظہور حسین صاحب سوائے آخری ایک سورۃ کے باقی کا درس مکمل کر دیں۔عصر کی نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے میں انشاء اللہ آخری سورۃ کی تفسیر کے ایک چھوٹے سے حصہ کو بیان کر کے دعا کرا دوں گا۔روزنامه الفضل ربوه ۱۶ جنوری ۱۹۷۲ء صفحه ۱ تا ۶)