خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 39 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 39

خطبات ناصر جلد سوم ۳۹ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۰ء دیا گیا ہے اور اجر عظیم اللہ کے در کے سوا کہیں اور سے مل نہیں سکتا اس لئے اس ڈر پر دھونی رما کر بیٹھ جانا چاہیے وہیں سے ہمیں یہ اجر مل سکتا ہے۔اس اجر کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ان آیات میں بیان کی ہیں ایک ایمان ، ایک ہجرت اور ایک مجاہدہ اور ان کے مقابلہ میں تین فضل اور تین قسم کے انعام کا ذکر کیا ہے رحمت ، رضوان اور جنات نعیم کا۔ایمان ایک عام لفظ ہے یعنی بڑا وسیع ہے اتنا وسیع کہ اسلام کے ہر حکم پر اس نے احاطہ کیا ہوا ہے ایمان کس پر لانا ہے اور ایمان کے تقاضے کیا ہیں اس کا تفصیل سے قرآن کریم میں ذکر پایا جاتا ہے اور ایمان کے مقابلے میں جو انعام رکھا گیا ہے وہ رحمت ہے۔رحمت بھی اپنی وسعتوں میں بہت شان رکھتی ہے کیونکہ عربی لغت میں ہر قسم کے فضل اور انعام پر رحمت کا لفظ بولا جاتا ہے۔پس یہ فرمایا کہ تم ایمان لاؤ تمہیں میری رحمت نصیب ہو جائے گی پھر بتایا کہ ایمان جو ہے وہ دوشاخوں میں آگے تقسیم ہوتا ہے ایک کا تعلق ہجرت کے ساتھ ہے اور دوسری کا تعلق مجاہدہ کے ساتھ ہے جس ایمان کا تعلق ہجرت کے ساتھ ہے وہ تقاضا اگر پورا کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں جو انعام ملتا ہے وہ رضوانِ الہی ہے اور جس ایمان کا تعلق مجاہدہ کے ساتھ ہے اگر اس تقاضا کو پورا کیا جائے تو اس کے بدلے میں جو انعام ملتا ہے وہ جنات نعیم ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ایمان ایک ایسا لفظ ہے جو تمام اسلامی تعلیم پر حاوی ہے اور اس کے ہمیں دو حصے کرنے پڑتے ہیں ایک وہ اعتقادات اور وہ احکام و اوامر جن پر ایمان لانا فرض قرار دیا گیا ہے اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل سے قرآن کریم میں یہ بیان کیا ہے کہ ایمان کے تقاضے کیا ہیں اسی کے نتیجہ میں اللہ کی کونسی رحمت کے جلوے انسان دیکھتا ہے؟ اسی طرح ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہجرت کا صحیح مفہوم اور اس کے وسیع معنی جن معنی میں کہ اس کو قرآن کریم اور اسلام نے استعمال کیا ہے وہ کیا ہے؟ اور تیسرے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ مجاہدہ کسے کہتے ہیں؟ پھر ہمیں سمجھ آئے گا کہ ایمان کے مقابلے میں رحمت کو اور ہجرت کے مقابلے میں رضوان کو اور مجاہدہ کے مقابلے میں جنات نعیم کو کیوں رکھا گیا ہے۔یہ مضمون تو اتنا وسیع ہے کہ اسلام کے سارے احکام سے اس کا تعلق ہے لیکن میں اس کا جو