خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 485 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 485

خطبات ناصر جلد سوم ۴۸۵ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۱ء پس ہم عبادت سے اپنے رب کو راضی نہیں کر سکتے۔ہم اس عبادت سے اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں جو مقبول ہو جائے جسے اللہ تعالیٰ اپنے عاجز بندے کا تحفہ سمجھ کر قبول فرما لے۔غرض ایک تو یہ گروہ ہے جو سمجھتا ہے کہ عبادات جس رنگ میں اور جس طور پر اور جس قدر اور جس مقدار میں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں یا جن کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنت قرار دیا ہے وہ ہمارے لئے کافی نہیں۔اگر ہم صرف ان عبادتوں پر اکتفا کریں گے تو ہماری روحانی ترقی ، ہماری روحانی پرورش اور نشو ونما اپنے ارتقاء کو نہیں پہنچے گی حالانکہ یہ غلط خیالات ہیں۔اور ایک وہ گروہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی چالاکی سے اپنے رب کو خوش کر سکتا ہے مثلاً بیماری ایسی نہیں کہ جس میں روزہ چھوڑ نا جائز ہو لیکن ایک ایسا آدمی جو بہا نہ جو ہے وہ اس قسم کی بیماری میں روزہ چھوڑ دیتا ہے وہ بھی ایک مسئلہ خود تراشتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اتنی بیماری روزہ چھوڑنے کے لئے کافی ہے۔یہ طریق غلط ہے۔طبیعت میں بہانے کی جستجو نہیں ہونی چاہیے بلکہ نیت یہ ہونی چاہیے ، خواہش یہ ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے جس رنگ میں اور جس قدر عبادت ہمارے لئے فرض قرار دی ہے یا جو ہمارے لئے سنت بنائی گئی ہے ہم اتنی ہی عبادت کریں گے مگر بشاشت اور خوشی سے کریں گے اور اس نیت سے کریں گے کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے لیکن اگر کوئی آدمی یہ سمجھتا ہے کہ بہانے جس طرح انسان کے سامنے چلتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی چل سکتے ہیں تو وہ احمق بھی ہے اور ظالم بھی ہے وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کو پہچانتا نہیں وہ اس کے عرفان سے دور ہے۔پس بہا نہ جوطبیعت نہیں ہونی چاہیے۔جہاں روزہ چھوڑ نا جائز نہ ہو وہاں روزہ نہیں چھوڑ نا چاہیے۔کسی آدمی کا یہ سمجھنا کہ جسمانی لذت یا یہ سمجھنا کہ جسمانی صحت کو ( اور وہ بھی ایک غلط نظریے کے ماتحت) ہم روحانی لذتوں اور روحانی صحت پر قربان کر دیں گے اور اس میں ہماری بہتری ہے تو یہ غلط بات ہے۔یہ سراسر حماقت ہے اور یہ سمجھ لینا کہ خدا تعالیٰ کے سامنے بہانے چلتے ہیں۔اس سے زیادہ حماقت کی بات تو کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔پس وہ لوگ جو روزہ چھوڑنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ، انہیں اپنی اس عادت کو دور کرنا