خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 421
خطبات ناصر جلد سوم ۴۲۱ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء سکتا۔انسانی تصور ان چیزوں کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ ان چیزوں میں بہت وسعت ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اس نے اپنے بندوں میں سے ہر ایک کو جو قو تیں اور استعدادیں دی ہیں ان قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما اپنے کمال تک پہنچنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب پیدا کر دیئے ہیں اگر کسی کو اس کی ضرورتوں کے مطابق یا قوتوں کی نشوونما کے لئے پوری چیزیں نہیں ملتیں تو اس میں یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے مثلاً قحط پڑ جاتا ہے چیزیں نہیں ملتیں لیکن اس کا کسی پر کوئی الزام نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔پس یا تو یہ شکل ہوتی ہے اور یا یہ شکل ہوتی ہے کہ ظلم کے نتیجہ میں چیزیں نہیں ملتیں۔ایک اور آدمی کے پاس تو ہیں لیکن وہ ضرور تمند کو نہیں دے رہا۔جب خدا کے ان بندوں کے لئے آواز اٹھائی جاتی ہے ( اور اٹھائی گئی کہنا چاہیے کیونکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت کے زمانے کی باتیں کر رہا ہوں ) تو اس وقت کے بڑے بڑے سرمایہ دار اور امیر لوگوں نے کہا کہ ہمارے مالوں میں ان غریبوں کا کہاں سے حق پیدا ہو گیا؟ چنانچہ قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ تم ہمیں اس چیز سے منع کرتے ہو کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی سے تصرف نہ کریں اور جس طرح خدا کا منشاء ہے اسی طرح خرچ کریں اور یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے اموال کے مالک ہوتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق خرچ نہ کریں؟ چنانچہ یہ آواز اٹھائی گئی ایک مساوات کی اور دوسری غربت کے دور کرنے کی ( یہ تو مجھے نہیں کہنا چاہیے بلکہ مجھے تو کہنا چاہیے کہ ) ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی کی اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بڑے زور دار الفاظ میں فرمایا کہ اگر تم میرے غریب بندوں کا خیال نہیں رکھو گے تو جہنم میں جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ نے جہنم اسی لئے پیدا کی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ایک جگہ آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم دو وجہ سے بنائی ہے ایک توحید پر قائم نہ رہنے کے نتیجہ میں جہنم ملتی ہے اور دوسرے اللہ تعالیٰ کے بندوں کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے جہنم ملتی ہے۔گو یا بنیادی طور پر حقوق اللہ اور حقوق العباد بیان کر دیئے گئے ہیں۔ان کی تفصیل نہیں بیان کی گئی۔غرض جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز اٹھائی کہ انسان انسان میں کوئی فرق نہیں ہے تو دشمنانِ اسلام نے