خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 417
خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۷ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء سہاروں سے آگے ان کی نظر نہیں جاتی تھی اور جو اس دنیا کا حقیقی سہارا ہے وہاں تک ان کی نگاہ اور عقل کی رسائی نہیں تھی اس لئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کو دوسری طاقتوں سے ڈراتے تھے۔وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ آگئیسَ اللهُ بِعَزِيزِ ذِي انْتِقَامِ (الزمر: ۳۸) یعنی کیا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اس کے کرنے پر وہ غالب نہیں ہے؟ اس میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ جو میں چاہتا ہوں وہی ہو گا۔تمہیں ان مخالفین سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔میں یہ چاہتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اس دنیا پر اس رنگ میں غالب آئے کہ دنیا کے اندھیروں کو وہ دور کر دے اور اس دنیا کے سینوں کو اللہ تعالیٰ کے نور سے منور کر دے اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے اس واسطے ہو گا وہی جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور مخالفین جو تدبیریں کرتے ہیں میں انہیں ان کی سزا دوں گا کیونکہ میں انتقام لینے والا بھی ہوں مجھے انتقام لینے کی طاقت ہے اس لئے ان کی ساری مخالفانہ تدبیریں خاک میں مل جائیں گی۔پس اس آیہ کریمہ میں پہلے مسلمانوں کو یہ کہا الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ اور پھر ان کے منہ سے غیروں میں اس کی تبلیغ کروائی۔دوسری طرف کافروں سے کہا کہ اللہ عزیز بھی ہے اور انتقام کی بھی طاقت رکھنے والا ہے وہ جو چاہتا ہے وہ کرے گا اسے کوئی روک نہیں سکتا۔کافر جو چاہتے ہیں اور جو ان کے منصوبے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ملیا میٹ کر دے گا اور خاک میں ملا دے گا۔البتہ منصوبے بنانے کی ان کو اجازت ہو گی۔چنانچہ قریش مکہ نے بھی مسلمانوں کے خلاف منصوبے کئے۔عرب کے دوسرے قبائل جن کی لاکھوں کی تعداد تھی انہوں نے بھی بعض چھوٹے چھوٹے قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف منصوبے باندھے۔پھر یہود کی سازش ساتھ مل گئی۔یوں سمجھنا چاہیے کہ اس وقت کی دنیا کاSpear head (سپئیر ہیڈ ) یعنی نیزہ کی آئی جو تھی وہ اسلام کے خلاف نظر آتی تھی پھر پیچھے تو نیزے کا پھل یا دو پھلہ کہنا چاہیے یعنی کسرئی اور قیصر کی شوکت اور دنیوی طاقت اسلام کے مقابلے پر آئی لیکن نیزے کی آئی جو تھی وہ کفار مکہ یا عرب کے دوسرے قبائل کے حملہ آور ہونے کی شکل میں ظاہر ہوئی۔چنانچہ انہوں نے منصوبے کئے اور ہر قسم کے منصوبے کئے۔قرآن کریم میں سورۂ طارق میں اسی طرف اشارہ ہے فرمایا إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وہ مسلمانوں 66