خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 367
خطبات ناصر جلد سوم ۳۶۷ خطبه جمعه ۱٫۲ کتوبر ۱۹۷۰ء ہیں وہ اسلام اور احمدیت میں داخل نہیں ہو جائیں گے اور جو باہر رہیں گے ان کی حیثیت چوہڑوں چماروں کی طرح بن جائے گی یہ تو ایسا فیصلہ ہے جو ہو کر رہے گا دنیا دنیوی لحاظ سے اپنے آپ کو بڑا طاقتور سمجھتی ہے لیکن ان ساری طاقتوں کو اور ان طاقتوں کو جو ابھی تک انسان کے علم میں نہیں آئیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک حکم ”کن“ کے ساتھ پیدا کر دیا۔اسی ایک حکم کے ساتھ جب وہ چاہے گا اسے مٹادے گا تو دنیا پتہ نہیں کس چیز پر فخر کرنے لگ جاتی ہے پس آپ کو کہیں شیطان ورغلانہ دے۔آپ کے دل میں وسوسہ نہ پیدا ہو جماعت بڑی قربانی کر رہی ہے۔لیکن صرف اس وجہ سے کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کہ جماعت قربانی دے۔اگر اس کا فضل شامل حال نہ رہے تو آپ ایک دھیلے کی قربانی نہیں کر سکتے اور فضل کے بغیر جس دھیلے کی آپ قربانی کریں گے اللہ تعالیٰ اسے ہاتھ سے پکڑ کر تمہارے منہ پر مارے گا کہ لے جاؤا سے مجھے غیر مخلص پیسہ نہیں چاہیے اپنی فکر کرتے رہو اور خدا کے دامن سے چمٹے رہو دنیا کی کوئی طاقت آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور شیطان کے سب حملے خواہ کسی شکل میں کسی طاقت کے ساتھ ہوں وہ ناکام ہوکر واپس چلے جائیں گے کیونکہ آپ کو شیطان اپنے پیدا کرنے والے رب کی گود میں پائے گا اور وہ اس سے خوف کھائے گا پس دعائیں کرو اللہ کے دامن کو نہ چھوڑو۔اہلِ دنیا سے پیار کرو ان سے نفرت نہ کرو کسی سے دشمنی نہ کرو کسی کو دکھ نہ پہنچاؤ اور وہ جو تمہیں دکھ پہنچانے والے ہیں اور تمہارے ساتھ دشمنی کرنے والے ہیں ان سے فکر مند بھی نہ ہو۔جو جائز تدبیر ہے وہ بہر حال ہم نے کرنی ہے کیونکہ خدا کا یہی حکم ہے لیکن اس جائز تدبیر کے بعد آپ کے لئے خائف ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خدا کہتا ہے کہ یہ نا کام ہوں گے۔جس کے کانوں میں خدا تعالی کے میٹھے بول پڑ رہے ہوں اسے دنیا کی کس طاقت سے ڈر ہے خدا کرے کہ آپ کو سنے کی بھی توفیق عطا کرے۔(اللَّهُمَّ آمین) از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )