خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 336
خطبات ناصر جلد سوم ۳۳۶ خطبہ جمعہ ۱۱ ستمبر ۱۹۷۰ء کئی دفعہ بتایا ہے کہ آٹھ دس سے زیادہ مقامات سے ہمیں یہ درخواست پہنچی ہے کہ زمین بھی ہم دیں گے اور عمارت بھی ہم بنا ئیں گے آپ یہاں میڈیکل سنٹر ز کھولیں اور ڈاکٹر ز بھجوائیں یعنی جو ہمارا ابتدائی سرمایہ ہے وہ ان کی جیبوں سے خرچ ہو گا اور جو ہمارا کام ہے یعنی تبلیغ اسلام کا وہ ہمارا ہی ہوگا اور ہم وہاں کام کریں گے۔وہاں شکل یہ بنتی ہے کہ ایسے اداروں کو وہ جماعت کے نام پر رجسٹرڈ کروا دیتے ہیں چنانچہ اس طرح یہ جماعت کی ملکیت بن جاتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اس کے نتیجہ میں حسد پیدا ہونا چاہیے تھا جیسے کہ ہمیں پہلے بتایا جا چکا ہے چنانچہ حسد پیدا ہوا مثلاً ایک بڑی منظم جماعت ہے اس کے متعلق ایک ذریعہ سے یہ خبر ملی ہے والله اعلم کہاں تک درست ہے یہ بات مضمون کے لحاظ سے تو درست معلوم ہوتی ہے لیکن Source of information یعنی ذریعہ خبر ابھی تک ایک ہے پہلے تو بہت سارے ذرائع سے علم ہوتا رہتا ہے انشاء اللہ پتہ لگ جائے گا کہ یہ بات کہاں تک درست ہے؟ بہر حال بظاہر۔درست معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک ریزولیوشن پاس کیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ افریقہ میں جماعت احمد یہ اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہاں ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے پاکستان میں ان کو کچلو تا کہ ان کے جو وہاں پر گرام ہیں ان کے اوپر اثر پڑے۔جماعت احمدیہ کو کچلنے کی طاقت تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دی لیکن اس نے حسد کرنے کا اختیار سب کو دیا ہے۔ویسے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور فرمایا کہ یہ تمہاری اپنی مرضی ہے کہ رشک کرو یا حسد کرو یعنی جب اللہ تعالیٰ کے فضل کسی پر نازل ہوں تو ایک ذہنیت یہ پیدا ہوتی ہے کہ خدا کا بندہ کہتا ہے کہ میرے بھائی نے خلوص نیت کے ساتھ اپنے رب کے حضور اپنا سب کچھ دے دیا اور اس کے فضلوں کو حاصل کیا اور ان فضلوں کے حصول کا یہ دروازہ میرے لئے بھی کھلا ہے تو جس طرح میرے بھائی نے ایثار اور قربانی اور اخلاص کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت کو حاصل کیا میں بھی حاصل کروں گا اور کوشش یہ کروں گا میں اس سے بھی زیادہ الہی فضلوں کا وارث بنوں۔اس کو رشک کہتے ہیں۔لیکن ایک اور آدمی اگر اس کا ذہن صحیح راستے سے بھٹک جائے تو وہ یوں سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ