خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 317
خطبات ناصر جلد سوم ۳۱۷ خطبه جمعه ۲۸ راگست ۱۹۷۰ء طاقتیں مثلاً صدر نکسن بھی ہو یا رشیا کا صدر بھی ہو یورپین اقوام کے سر براہ بھی ہوں یا افریقی اقوام کے سر براہ بھی ہوں۔جزائر کے رہنے والوں کے پرائم منسٹر بھی ہوں سارے مل کر بھی مجھے آکر یہ کہیں کہ ہم نے سر جوڑا اور فیصلہ کیا کہ ہم جماعت احمدیہ کو ہلاک کر دیں گے اور اسے مٹادیں گے تو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر میرا جواب انہیں یہ ہوگا کہ تم افراد کے قتل پر تو قدرت رکھتے ہو چونکہ پہلے الہی سلسلوں میں بھی یہی نظر آتا رہا ہے اس لئے تم مجھے مار سکتے ہو لیکن تم احمدیت کو مٹانے کے قابل کبھی نہیں ہو سکتے کیونکہ احمدیت خدا تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی امان میں ہے اور احمدیت کو غالب کرنے کا حکم اور فیصلہ آسمانوں پر ہو چکا ہے اور یہ بھی فیصلہ ہو چکا ہے کہ بتدریج ( یعنی تدریج کے مختلف دوروں میں سے گزرتی ہوئی ) احمدیت تمام دنیا پر خدمت کے طور پر غالب آئے گی یعنی وہ دنیا کی خادم بن جائے گی۔غالب آنے کا ہمارا یہ مطلب نہیں کہ ہم دنیا کو ایکسپلائٹ کریں گے جب ہم دنیا پر غالب آنا کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دنیا ہمیں ایکسپلائٹ کرے گی یعنی ہم سے خدمت لے گی۔پس ہم خادم کی حیثیت سے دنیا پر غالب آئیں گے حاکم کی حیثیت سے نہیں۔جس طرح ماں اپنے بیٹے پر حاوی ہوتی ہے اسی طرح یہ جماعت بنی نوع انسان سے ماں سے زیادہ پیار کرنے کے لحاظ سے اس پر حاوی ہوگی وہ اس پیار کو Resist ( ریذیسٹ) نہیں کرسکیں گے۔وہ اس پیار کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے وہ اس پیار کے گھائل ہو جائیں گے وہ اس پیار کے نتیجہ میں جماعت سے چمٹ کر اس میں غائب ہو جائیں گے اور پھر سب کے سب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جمع ہو جا ئیں گے اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رہے گا اس کی حیثیت چوہڑے اور چماروں کی طرح ہوگی۔یہ وعدے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں اور ان وعدوں پر پختہ یقین رکھنا میرا اور آپ کا فرض ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔( از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )