خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 280 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 280

خطبات ناصر جلد سوم ۲۸۰ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء پڑھتے اور جو اس نے اپنی چیز واپس لے لی ہے اس پر ٹسوے بہار ہے ہو یہ تو ٹھیک نہیں۔میں نے کہا ابھی واپس جاؤ اور ان کھیتوں کے کنارے اللہ اکبر کے نعرے لگاؤ اور الحمد للہ پڑھو اور پھر واپس آؤ یہ تو اللہ تعالیٰ کی چیز ہے ایسے واقعات آتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ بتائے کہ یہ تمہاری محنت کا پھل نہیں یہ میرے فضل کا نتیجہ ہے۔اگر انسان کی محنت کا پھل ہے تو جہاں بھی محنت ہے اس کا پھل نظر آنا چاہیے اگر علت ہے تو اس کا معلول نظر آنا چاہیے اگر آگ جلاتی ہے تو جہاں بھی آگ کے اندر کوئی پڑے گا اس کو جل جانا چاہیے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ آگ نہیں جلاتی میں نے اس کو کہا ہے جلاؤ۔جب میں اسے کہوں گا جلا تو یہ جلائے گی اور جب میں کہوں گا کہ نہ جلاؤ تو نہیں جلائے گی اسی طرح یہ درخت کے پتے خود نہیں گرتے ، درختوں پر پھل خود نہیں آتا ، فصلیں آپ کی محنت کا نتیجہ نہیں کوئی چیز بھی انسان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ہر چیز اللہ کے حکم کا نتیجہ ہے ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتی ہے اللہ تعالیٰ ویسے بڑا پیار کرنے والا ہے آدھا حصہ میں نے سنایا ہے اگلا بھی سنا دیتا ہوں تا کہ دوسری طرف کسی کو وہم نہ جائے وہاں الحمد للہ کہلوایا مجھ سے بھی اور میرے ساتھیوں سے بھی (چاہے انہوں نے میرے سمجھانے پر کہا ) اگلی فصل تھی منجی کی ہماری یہ زمین جو کہ پہلے ایک ٹھیکیدار کے پاس تھی اور اس کی آخری منجی کی فصل ساڑھے تین من فی ایکڑ نکلی اور جب ہم نے لی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے عام طور پر کم و بیش ۱۵ ،۲۰ من فی ایکٹر نکلا کرتی تھی گندم واپس لے لی اور چاول ہمیں زیادہ دے دیا یعنی ۲۹ من اوسط نکال دی باسمتی چاول موٹے نہیں اچھے خوشبو دار ) چاولوں کی اس وقت بھی ہم نے الحمدللہ پڑھی اور جس وقت اس نے اپنی چیز ہم سے واپس لے لی تھی اس وقت بھی ہم نے الحمد للہ پڑھی تھی۔پس خدا تعالیٰ جس پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ وہ ہستی ہے جسکے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے اور ہر تبدیلی اور ہر واقعہ جو رونما ہوتا ہے وہ اس کے ارادہ سے ہوتا ہے کیونکہ وہ متصرف بالا رادہ ہستی ہے اور وہ لوگوں کو اپنی قدرت کے نمونے دکھاتا رہتا ہے کبھی ژالہ باری کر کے اور کبھی کسی زمیندار کو اسکی سمجھ میں ہی یہ بات نہیں آتی کہ کیا وجہ ہے ساتھ کا کلہ (ایکڑ) ہے مگر ان کی فصلیں