خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 254
خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۴ خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء مضبوط ہوگئی عرب کی قوم۔عرب میں جو مسلمان تھے ان کو طاقت ہوئی۔ارتداد کا فتنہ اُٹھاوہ فتنہ دبا دیا گیا اور پھر عرب اسلام کے جھنڈے تلے متحد ہو گیا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا کہ اس وقت کی جو معلوم دنیا تھی اس پر غالب آیا۔چھیڑ چھاڑ شروع کی ایرانیوں نے بھی اور رومیوں نے بھی اور مسلمانوں کو اس کا مقابلہ کرنا پڑا۔ان حالات کے لحاظ سے جو نہایت اعلی تلوار میں تھیں ایرانیوں اور رومیوں کے پاس ، وہ کند تلوار میں اور گندے لو ہے کی تلوار میں اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے کہا نکالو! کیونکہ تلوار کے لوہے نے فیصلہ نہیں کرنا۔میرے حکم نے فیصلہ کرنا ہے۔آدمی تاریخ پڑھتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے۔خالد بن ولید تھے بڑے مخلص، بڑے سمجھدار اور قرآن کریم کے رموز و اسرار سے واقف، کیونکہ اگر ان کی تقریریں پڑھیں تو آدمی ان سے یہی نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وہ نڈر فدائی تھے اور بعض دفعہ ایک ایک جنگ میں نو نو تلوار میں ان کے ہاتھ سے ٹوٹ جاتی تھیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے کہ سپاہی لڑ رہا ہو اس کے سامنے دشمن ہو اور تلوارٹوٹ جائے اور پھر بھی اس کی جان کی حفاظت ہو تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ ان کی حفاظت کرتا تھا لیکن اس سے پتہ لگتا تھا کہ ان کی تلوار میں ان کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔نونو تلواریں ایک دن میں ایک معرکہ میں شاید ایک گھنٹہ کے اندراندرٹوٹ جاتی تھیں کیا کرتے بیچارے جوان کے پاس تھا وہ اپنے رب کے حضور پیش کر دیتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرتا تھا۔آسمان سے ان پر فرشتے نازل ہوتے تھے۔پھر رومیوں کے ساتھ ان کمزور فدائیوں کو لڑنا پڑا۔ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ اور دودولاکھ فوج کے مقابلہ میں بین تین پینتیس ہزار بعض دفعہ پانچ ہزار بعض دفعہ دس ہزار کی فوج جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ ان کو فتح دیتا تھا اور کثرت کا خیال نہیں رکھتا تھا کیونکہ جو سبق دیا گیا تھا ان آیات میں جس کا ذکر ہے وہ تو یہ ہے کہ اگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلیفہ جیسی حیثیت رکھیں گے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ساری دنیا پر غالب ہوں گے وہ مقابلہ تو دو کا تھا ساری مخالف دنیا کے ساتھ۔جس میں اللہ تعالیٰ نے کامیاب کیا۔اس وقت کچھ مرا کز بنے۔ساری دنیا میں اسلام کے غلبہ کے لئے۔ایک تو ایران کا ملک تھا جس کے ماتحت عراق بھی تھا۔عراق کے ورلے حصے جو عرب سے ملتے تھے وہ Base(ہیں) بنی وہ ایک ۱