خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 178

خطبات ناصر جلد سوم IZA خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۷۰ء میں ایک پیراماؤنٹ چیف کئی سو میل سے مجھے ملنے آیا اور ایک M-P(ایم۔پی ) کو اپنے ساتھ سفارشی بنا کر لا یا وہ کہنے لگا کہ ہمارے علاقے میں طبی امداد کا کوئی انتظام نہیں آپ ہمارے ساتھ محبت کا سلوک کریں ہمارے علاقے میں طبی مرکز کھولیں۔میں نے اس سے وعدہ کیا کہ ٹھیک ہے کھولیں گے انشاء اللہ۔ان کے ساتھ جوایم۔پی تھا وہ کہنے لگا کہ جو دفتری کا رروائی ہے جسے ہم سرخ فیتہ کہتے ہیں اس کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ہم وہ قوم نہیں ہیں جسے اپنی کامیابی کے لئے ملکی قانون توڑنے کی ضرورت پڑے ہم ملکی قانون کے پابند رہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقیات کرتے چلے آئے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کوئی دُنیوی طاقت اس کے راستے میں روک نہیں بن سکتی۔پس نو جوانوں کو بھی آگے آنا چاہیے وہ نیک نیتی سے اپنے نام پیش کر دیں۔پھر ان میں سے ہم انتخاب کریں گے اور مختلف ملکوں میں ان کے کاغذ بھیجیں گے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ کام اس سال کے اندر اندر ہو جائے اس طرح وہاں انشاء اللہ بہت سے طبی مراکز کھل جائیں گے۔ویسے ایک طبی امداد کے مرکز کے لئے شروع میں یہ بھی ضروری نہیں کہ وہاں ہم اپنا کلینک بنائیں یا اپنی عمارت ہو۔کوئی مکان کرایہ پر لے کر ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ توفیق دے گا اور دے رہا ہے ، دلوں کے جو بٹوے ہیں ان کو اس نے کھول دیا ہے کیونکہ جب تک دل کا منہ نہ کھلے اس وقت تک کسی کی جیب کے بٹوے کا منہ نہیں کھلا کرتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں قربانی کے لئے دلوں کے بٹووں کے منہ کھول دیئے ہیں۔میں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ مجھے اس بات کی فکر نہیں کہ پیسہ کہاں سے آئے گا اور آئے گا بھی یا نہیں۔پیسہ یقیناً آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو جماعت سے قربانیاں مانگ وہ قربانیاں دے گی۔انگلستان میں بھی میں نے یہی کہا تھا کہ جب خدا تعالیٰ نے میرے منہ سے یہ کہلوایا ہے کہ دس ہزار پاؤنڈ میرے جانے سے پہلے جمع ہو جا ئیں گے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ جمع نہ ہوں؟ میرے منہ سے جو بات نکلی ہے خدا تعالیٰ خلافت کی غیرت کی وجہ سے اسے پورا کرے گا اور اس نے اپنے فضل سے پورا کر دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے۔