خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 133
خطبات ناصر جلد سوم ۱۳۳ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء ان میں سے کسی نے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی ہیں؟ میں نے کہا ہاں جنہوں نے رضا کارانہ طور پر پیش کی ہیں انہیں ثواب بہر حال زیادہ ملے گا اس وقت حالت یہ ہے کہ اگر ہم ۳۰ میڈیکل سنٹر کھول دیں تو اس کا وہاں اتنا اچھا اثر پیدا ہوگا کہ ہم ایک ایک ملک میں ہر سال ایک ایک نیا ہائی سکول کھولتے چلے جائیں گے اس دورہ سے جماعت کو اور مجھے جو سب سے بڑا فائدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے وہاں کے سارے حالات دیکھے اور اب میں علی وجہ البصیرت کوئی کام کر سکتا ہوں پہلے تو میں رپورٹوں پر فیصلے کیا کرتا تھا اب میں ہر آدمی کو جانتا ہو۔ویسے اللہ تعالیٰ کے فضل کا یہ حال ہے کہ پچھلے جماعتی الیکشن پر ہمارے غانا کے پریذیڈنٹ صاحب کے دماغ میں یہ کیڑا پیدا ہوا اور انہوں نے یہ کہا کہ اگر مجھے دوبارہ منتخب نہ کیا گیا تو میں فساد پیدا کروں گا مجھے یہ اطلاع ملی تو میں نے ان کو تار دی کہ تم انتخاب نہ کرواؤ میں خود انتظام کروں گا یہ دو مہینے پہلے کی بات تھی اب جب میں وہاں گیا تو ایک مجلس عاملہ اور دوسرے کرتا دھرتا افریقن بیٹھے ہوئے تھے میں نے باتوں باتوں میں ان کی طرف دیکھ کر یہ فقرہ کہا کہ میں نے ex-president ( یعنی سابق پریذیڈنٹ ) کے لئے ایک تحفہ رکھا ہوا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ ان کے کان میں یہ بات پڑ جائے اور وہ ذہنی طور پر تیار ہو جائیں۔سب نے یہ سنا اور سمجھ گئے پھر میں نے ایک دن مجلس عاملہ کی میٹنگ بلا کر کہا کہ دیکھو دنیا کی کوئی قوم اور کوئی جماعت ترقی نہیں کیا کرتی جب تک وہ اپنے سابق عہدیداروں کی عزت اور تعظیم نہ کرے مثلاً اگر ایک ملک ایسا ہو کہ وہ سیاسی طور پر سابق پریذیڈنٹ کو کتا کہنے لگ جائے تو جب چار پانچ کتے بن جائیں یعنی جب بھی وہ پریذیڈنسی سے ہٹیں گے وہ کہتے کہلائیں گے اور جب وہ ہٹ جائیں گے تو غیر ملک والے یہی سمجھیں گے کہ کتوں کی قوم ہے کتوں کو پریذیڈنٹ بناتی ہے۔پس دنیا میں ترقی کرنے اور دنیا کے وقار اور عزت کو حاصل کرنے والی قوم کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو اہل ہو اس کو عہد یدار بنا ئیں اور جب یہ عہد یدار بدلے تو اس کی اسی طرح عزت و تکریم کریں جس طرح اس کی عہدیدار ہونے کی حیثیت میں کرتے تھے کسی عربی شاعر نے کہا کہ ہم سرداروں کی قوم ہیں اور میرے پیچھے سرداروں کا