خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 132 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 132

خطبات ناصر جلد سوم او خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء میں نے انہیں کہا کہ میں ایک دن کی بھی مہلت نہیں دوں گا اور رقم جمع ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ مجھے کہے اور میں وہ بات آپ تک پہنچاؤں اور وہ کام نہ ہو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔جس دن میں وہاں سے چلا ہوں اس دن ان رقوم کو نکال کر جن کی اطلاع ہمیں مل چکی تھی کہ وہ مختلف شہروں سے چل پڑی ہیں دس ہزار چارسو پچاس کے لگ بھگ نقد اس مد میں جمع ہو چکے تھے اور اگر ان رقوم کو بھی ملایا جائے جن کی اطلاع ہمیں مل چکی تھی تو پھر گیارہ ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ کی رقم عملاً جمع ہو چکی تھی اور میرا اندازہ ہے کہ ایک مہینے کے اندروہ پندرہ ہزار سے اوپر نکل جائیں گے اور ادھر فضل عمر فاؤنڈیشن میں ۲۱ ہزار ٹوٹل اور وہ بھی تین سال کی بڑی کوششوں کے بعد اور ادھر چالیس ہزار اس وقت تک ہو گیا تھا۔میں نے کہا تھا کہ پچاس ہزار تک پہنچ جاؤ میں بڑا خوش ہوں گاممکن ہے پچاس ہزار سے بھی اوپر نکل جائیں میں نے انہیں یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کام کرو اور میں اس کے مطابق کام کروں گا اب جماعت کو میں نے یہ نہیں کرنے دینا کہ وہ (افریقہ والے تو ) کہیں کہ کام تیار ہے پیسے بھیجو اور میں کہوں کہ ہوں تو میں بڑا امیر لیکن میری دولت کا انحصار صرف وعدوں پر ہے میرے پاس وعدوں کے گٹھڑ جمع ہیں اور جب وہ پورے ہو جا ئیں گے تو میں تمہیں بھجوا دوں گا یہ تو نہیں ہوسکتا کام تو بہر حال ہونا ہے اور تم سے لینا ہے مثلاً انگلستان میں ہمارے بعض ڈاکٹر ہیں وہیں پریکٹس کر رہے ہیں ان سے میں نے کہا دیکھو مجھے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے تم اخلاص سے اور محبت سے اور ہمدردی سے میری آواز پر لبیک کہو ڈاکٹر تو ویسے انشاء اللہ مجھے ضرور ملنے ہیں لیکن تم رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرو اگر خود نہیں کرو گے تو میں تمہیں حکم دوں گا اور میرا حکم تمہیں بہر حال ماننا پڑے گا کیونکہ حکم عدولی تو وہی کرے گا جو احمدیت کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو گا اور جو احمدیت سے نکل جائے اس کی نہ مجھے ضرورت ہے نہ میرے اللہ کو ضرورت ہے چنانچہ انہیں بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔امام رفیق کے پاس بنگ کا مینیجر آیا ہوا تھا اسی اکاؤنٹ کے کھولنے کے سلسلہ میں بعض فارم پر کروانے ہوتے ہیں وہ مجھ سے بھی ملنے آیا تو میں نے اسے یہ واقعہ سنایا تو وہ بڑا خوش ہوا اور خوب ہنسا کہنے لگا یہ خوب ہے۔یا رضا کارانہ طور پرا اپنی خدمات پیش کرو یا پھر میں تمہیں حکم دوں گا جو تمہیں بہر حال ماننا پڑے گا پھر وہ کہنے لگا کہ کیا