خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 117 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 117

خطبات ناصر جلد سوم ۱۱۷ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء تو پوں کے مونہوں سے گولے برسے پھول نہیں بر سے اور وہ محبت کا پیغام کامیاب نہیں ہوا نہ اسے ہونا چاہیے تھا نہ وہ ہوسکتا تھا کیونکہ اس سے بہتر ، اس سے زیادہ پیارا پیغام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کی طرف نازل ہو چکا تھا۔اب ہم تمہارے پاس محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں اور قریباً پچاس سال سے مختلف ملکوں میں تمہاری خدمت کر رہے ہیں اور تم میں سے ہر شخص بڑا بھی اور چھوٹا بھی ، حاکم بھی اور محکوم بھی رعایا بھی اور ان کے افسر بھی جانتے ہیں کہ اس پچاس سالہ تاریخ میں نہ ہم نے تمہاری سیاست میں کبھی دلچسپی لی اور نہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ، نہ تمہارے مالوں کی طرف ہم نے حرص کی نگاہ اٹھائی تم جانتے ہو کہ ہم نے جو کچھ کمایا وہ تمہارے ملکوں ہی میں لگا دیا اور تم نے جو کچھ نہیں کمایا بلکہ کسی اور نے کسی اور ملک میں کما یا وہ بھی یہاں لائے اور اسے بھی تمہاری خدمت پر لگا دیا اس کا اس قوم پر اثر ہوتا تھا۔مثالیں تو بہت ہیں صرف ایک مثال میں دہرا دیتا ہوں۔کا تو میں ہمارا میڈیکل سنٹر ہے جو چند سال سے وہاں کام کر رہا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام اخراجات نکالنے کے بعد ۱۵ / ہزار پاؤنڈ سے زیادہ یعنی ۳لا کھ سے زیادہ کی رقم بچی ہوئی تھی چنانچہ گزشتہ دو ایک سال میں یہ ساری کی ساری رقم اس ہسپتال ( یعنی جو پہلے کلینک تھا ) کی عمارت پر لگا دی گئی بلکہ کچھ قرض لے کر لگا دیا گیا کہ جو اس سے آمد ہوگی اس میں سے ایک دو سال کے اندر واپس کر دیا جائے گا، انشاء اللہ شاید ۲۰ یا ۲۵ ہزار پاؤنڈ کی رقم لگا کر ایک خوبصورت ہسپتال بنا دیا گیا۔غرض ان ممالک میں سے ایک دھیلا نہیں نکالا لیکن وہ جو ہم سے پہلے محبت کا پیغام لے کر ان ممالک میں گئے تھے انہوں نے وہاں کچھ چھوڑا ہی نہیں۔پہلا ملک نائیجیریا تھا جہاں میں داخل ہوا۔ایک روز میں سوچ میں تھا ان کے حالات پر غور کر رہا تھا میں نے ایک افریقن دوست سے کہا کہ یہ دیکھ کر مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ تمہارے پاس سب کچھ تھا لیکن تمہیں ہر چیز سے ہی محروم کر دیا گیا چنانچہ اس سے اگلے روز جب میں ان کے ہیڈ آف دی سٹیٹ سے ملا تو ان سے میں نے کہا کہ کل میں نے ایک دوست سے کہا تھا کہ صدیوں کی حکومت کے بعد ایک فقیر اور دیوالیہ ملک چھوڑ کر یہ اقوام پیچھے ہٹ گئیں اور ان کا سب کچھ وہاں سے لے گئیں لیکن جماعت احمد یہ اپنے پیسوں پر، اپنے پیسے لے کر وہاں پہنچی اور