خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 74
خطبات ناصر جلد سوم ۷۴ خطبہ جمعہ ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ فرمایا کہ دیکھو اگر کوئی اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود گرفت کرے گا۔اگر وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتا تمہیں اس کی کیا فکر ہے۔تم نے بحیثیت انسان وہ سارے حقوق قائم کرنے اور ادا کرنے ہیں جو اسلام نے ایک انسان کے بحیثیت انسان قائم کئے ہیں اور جن کے ادا کرنے کی اس نے تعلیم دی ہے۔پس انسان کے حقوق کو قائم کیا ہے ( مسلمان کے حقوق کی میں بات نہیں کر رہا ) انسانی حقوق کو قائم کیا اور ایسی تعلیم دی کہ وہ حقوق ادا ہو سکیں اور ایسا نظام بنایا کہ اس نظام میں وہ حقوق ادا ہو جاتے ہیں۔غرض عظیم احسان ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بنی نوع انسان پر بحیثیت انسان۔تیسرے انسانی جذبات کا بحیثیت انسان احترام رکھا ہے اس کی میں پہلے مثال بیان کر چکا ہوں۔انسانی جذبات کے احترام کا یہ پہلو بھی تفصیلی ہے اس میں میں نہیں جاؤں گا مختصراً بیان کر دیتا ہوں۔اگر کسی پر جھوٹ باندھا جائے تو علاوہ اور نقصانات کے اس کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے چنانچہ فرمایا کہ کسی پر جھوٹ نہیں باندھنا خواہ وہ دہر یہ ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو ، ہندو ہو، پارسی ہو، بدھ مذہب کا ہو، کوئی ہو ، لا مذہب ہو یا بد مذہب ہو ،غرض کوئی ہو تم نے اس پر جھوٹ نہیں باندھنا، افتراء نہیں کرنا ، تہمت نہیں لگانی یہ ساری چیزیں علاوہ اور خرابیوں کے جذبات کو ٹھیس لگانے والی ہیں کوئی بھی ہو اس کے جذبات کا احترام کرنا ہے یہاں تک کہ اس کے اموال جو ہیں ان کی حرمت کو قائم کرنا ہے اس کی عزت کو قائم کرنا ہے۔اس کی جان کی حفاظت کرنی ہے۔یہ بحیثیت انسان ہونے کے ضروری ہے یہ نہیں کہا کہ ایک مسلمان کی جان کی حفاظت تو ہر دوسرے مسلمان پر فرض ہے لیکن غیر مسلم کی جان کی حفاظت فرض نہیں ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ ہم جان کی حرمت قائم کرتے ہیں اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اُمت مسلمہ پر ڈالدی اور اس میں عربی پر عجمی کو فضیلت نہیں اور نجمی پر عربی کو فضیلت نہیں اور مسلمان پر غیر مسلم کو فضیلت نہیں اور غیر مسلم پر مسلمان کو کوئی فضیلت نہیں سب کو جذبات کے لحاظ سے ایک ہی مقام پر کھڑا کر دیا ہے اور یہ بڑی چیز ہے۔اس واسطے بات کرتے وقت بڑی ہدا یتیں دی گئی ہیں ہم بعض دفعہ بڑی لا پرواہی کر جاتے ہیں اور اپنے بھائی سے ایسا مذاق کر دیتے ہیں جو اس کو چھنے والا ہوتا ہے ایسا کرنا منع ہے