خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 73
خطبات ناصر جلد سوم ۷۳ خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی جسمانی قوتیں عطا کی ہیں کہ وہ ان قوتوں کی صحیح نشوونما کے بعد گاماں پہلوان (مشہور پہلوان ہے ) کو بھی گرادے مگر وہ ایک ایسے غریب گھرانہ میں پیدا ہوا جہاں نہ تو اسے وہ دودھ ملے نہ وہ مکھن نہ وہ بادام ملیں نہ وہ دیگر چیزیں جو پہلوان کھاتے ہیں وہ اس کو میسر ہوں ، نہ مالش کے لئے تیل ملے نہ مالش کرنے والے اس کو ملیں تو اس کا جسم نشو ونما نہیں کرے گا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے اس کو جو جسمانی قوت عطا کی ہے۔اس کی جسمانی قوتوں کو کمال تک پہنچاؤ دیکھو ایسا آدمی جو یہ سمجھ رہا ہو کہ میرا رب کتنا پیار کرنے والا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مجھ پر کتنا احسان ہے کہ میرے جسم کی ہر ضرورت جو تھی اس کو بطور حق کے قائم کیا اور دلوایا۔غرض وہ گاماں پہلوان بھی بنے گا اور خدا رسیدہ انسان بھی ہوگا یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے لئے شکر کے جذبات ہونگے تو وہ خدا رسیدہ انسان بھی ہوگا وہ محض ایک پہلوان نہیں ہوگا۔پس اسلام نے صرف یہ نہیں کہا کہ تمہاری ضرورتیں پوری کریں گے اور پھر وہ خاموش ہو گیا۔اسلام نے یہ کہا ہے کہ جو بھی تمہاری طاقتیں ہیں۔ان کو نشوونما کے کمال تک پہنچانے کے لئے ہم تمہارے حقوق قائم کرتے ہیں۔فقیر اور بھیک منگا نہیں بنایا بلکہ فرمایا کہ تمہارے حقوق قائم کرتے ہیں اور تمہیں یہ حقوق دلوائیں گے اور حقوق کی تعریف یہ کی کہ جہاں ہمیں واقعی کوئی قوت اور استعداد نظر آتی ہے ( بعض دفعہ تو ماں ایک بدصورت بچے کو بھی خوبصورت سمجھتی ہے اس کی میں بات نہیں کر رہا) ایک خوش قسمت انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے واقعی اچھا ذہن عطا کیا ہے یا جسمانی طاقتیں دی ہیں یا اخلاقی طاقتیں دی ہیں۔وہ ساری طاقتیں کمال نشو و نما تک پہنچنی چاہئیں۔ان کی حقیقی اور کامل نشو ونما ہونی چاہیے۔غرض یہ احسانِ عظیم انسانیت پر بحیثیت انسان کے ہے یہ نہیں کہا کہ اگر ہند و ہو تو اس کی طاقتوں کو ضائع کرنے کی کوشش کرو یہ نہیں کہا کہ اگر ایک عیسائی ہو تو اس کی طاقتوں پر تبر چلا ؤ یہ نہیں کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے والا دہر یہ ہو تو اس کی کچھ پرواہ نہ کرو بلکہ حضرت نبی اکرم