خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 544
خطبات ناصر جلد سوم ۵۴۴ خطبہ جمعہ ۱۳ دسمبر ۱۹۷۱ء تمہارے پیچھے وہ یہو د قبیلہ تھا جس نے تمہارے ساتھ عہد کیا ہوا تھا انہوں نے اپنے عہد کو تو ڑا اور تم چاروں طرف سے گھر گئے۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) میں نے تمہاری مدد کی اور کی بھی مادی سامانوں کے ساتھ بھی اور غیر مادی سامانوں کے ساتھ بھی۔مادی سامان بھی وہ جن پر تمہاری حکومت نہیں چلی۔خدا تعالیٰ کا حکم آیا اور اس نے ہوا کا مزاج بدل دیا۔سردی اور ہوا کے چلنے کی تیزی میں شدت پیدا کر دی اور پھر ایسے سامان تھے جن کا تم کو پتہ نہیں لگا۔مثلاً دلوں میں رُعب ڈال دیا۔صرف کفار کے دلوں میں ہی نہیں بلکہ ان کے گھوڑوں کے دلوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے تصرف کیا اور اونٹنیوں کے دلوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے تصرف کیا تھا اور یہ غیر مرئی طاقتیں تھیں۔غیر مرئی لشکر تھے جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آگئے تھے۔ایک طرف وہ مومن ( منافق کا یہاں ذکر نہیں ہے ) کے دل کو مضبوط کر رہے تھے اور دوسری طرف کا فروں کے دل میں رعب ڈال رہے تھے اور بزدلی پیدا کر رہے تھے۔ان کے گھوڑے بے قابو ہورہے تھے۔اونٹنیاں بھاگنے کو تیار تھیں۔وہ لاؤلشکر اور وہ سامان اور وہ دولت اور وہ گھوڑے اور وہ اونٹنیاں اور وہ ہتھیار جن کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں گے اور اسلام کو مٹا دیں گے۔وہی چیزیں ان کے خلاف ہو گئی تھیں۔وہ بڑے دل گردے کے ساتھ آئے تھے لیکن خود ان کے دلوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا چنا نچہ وہ جو اپنے آپ کو سردار سمجھ کر آیا تھا۔بھاگ نکلنے میں سب سے آگے تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب ایسے حالات پیدا ہوں تو اُمتِ مسلمہ کو خواہ وہ کسی زمانے یا قوم سے تعلق کیوں نہ رکھتی ہو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مادی سامان پر بھی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ ہی کی حکومت ہے اور وہ غیر مادی سامانوں کے ساتھ بھی اپنے پیاروں کی مدد کرتا ہے اور اپنے پیاروں کے دشمنوں کی ہلاکت کے سامان پیدا کرتا ہے۔اس لئے جہاں مادی طاقت میں فرق نظر آئے جیسا کہ مثلاً اب ہمیں نظر آرہا ہے۔اگر بھارت اسی طرح اپنے فتنہ وفساد میں بڑھتا رہا تو جس طرح اس نے وہاں حملہ کر دیا ہے وہ یہاں بھی حملہ کر دے گا۔کئی لوگ جو اندر سے ہمارے مخالف ہیں اور ظاہری طور پر وہ ہمارے دوست اور اپنی طرف سے ہماری خیر خواہی کی باتیں کر رہے ہیں کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے دائیں ہاتھ پر حملہ ہوا ہے تمہارا بایاں ہاتھ کیوں ہلتا ہے اس احمق کو ہم کیا