خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 543
خطبات ناصر جلد سوم ۵۴۳ خطبہ جمعہ ۱۳ دسمبر ۱۹۷۱ء ہے۔جلوے ظاہر ہوتے ہیں۔مادی اشیاء پر انسان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی حکومت زیادہ چلتی انسان کی حکومت تو کبھی چلتی ہے اور کبھی نہیں چلتی۔جس ہوا سے سانس لے کر ابوسفیان اپنی زندگی کا سامان پیدا کر رہا تھا اس ہوا سے وہ اس رات کو اپنی خوش حالی کا سامان نہیں پیدا کر سکا۔غرض مادی اشیاء پر اصل حکم اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے۔دوسرے اس میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ مادی سامانوں کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کام لیتا ہے مگر تم ان کا ادراک نہیں رکھتے اور جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا میں یہی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایسی بے شمار مخلوق ہے جنہیں ہم اس کی قدرت کی لہریں بھی کہہ سکتے ہیں اور جب وہ ایک جماعت کے فائدے کے لئے حرکت میں آتی ہیں تو انسان کی وہ متحد قوتیں جو اللہ کے غضب کے نیچے ہیں ان کی ہلاکت کے سامان پیدا کر دیتی ہیں۔پس یہاں بتا یا کہ مادی سامان بھی خدا تعالیٰ کے منشاء کے بغیر کسی کو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتے اور دوسرے اصولی طور پر یہ بتایا کہ محض مادی سامان نہیں بلکہ غیر مادی سامان بھی ایسے ہیں کہ تمہاری مادی حستیں ان کو محسوس نہیں کر سکتیں۔ان کا علم نہیں پاسکتیں اللہ تعالیٰ ان سے بھی کام لیتا ہے چنانچہ مادی اور غیر مادی سامانوں کے ساتھ اس ایک رات میں ان چند ہزار مظلوموں کی حفاظت کی گئی اور وہ ظالم دشمن جو اپنے زعم میں بڑا طاقتور تھا اور اس نیت کے ساتھ آیا تھا کہ ان مظلوم مسلمانوں کو مٹا دے گا۔ان ظالموں کو جن کی تعداد کہیں زیادہ ، جن کے سامان کہیں زیادہ ، جن کی جسمانی طاقت فرد افرڈ ا کہیں زیادہ تھی کیونکہ وہ بڑے تیار ہوکر اور ڈنڈ پہلیتے ہوئے آئے تھے فرشتوں نے انہیں پکڑا اور ان کی کلائی مروڑ کر رکھ دی۔خدا تعالیٰ نے ان کو مادی اور غیر مادی سامان سے ہلاک کر دیا اور مسلمان کے لئے مادی اور غیر مادی سامانوں سے خوش حالی اور کامیابی اور عزت اور استحکام کے سامان پیدا کر دیئے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو شروع یہاں سے کیا ہے کہ دیکھو میں نے تمہارے اوپر بڑی نعمت ، بڑے فضل اور رحمت کو نازل کیا ہے۔اس وقت جب کہ چاروں طرف سے کفار کے لشکروں نے تمہیں آگھیرا تھا اور ظاہری طور پر تمہارے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔