خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 536 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 536

خطبات ناصر جلد سوم ۵۳۶ خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء ہوں اگر نہیں تو وہ شہید کیسے مظلوم بن گیا یا گھاٹے میں پڑنے والا بن گیا جو اس دار ابتلاء میں سے نکالا جاتا اور خدا تعالیٰ کے پیار کی جنتوں کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔نیکیاں ، بدیوں کو دھو ڈالتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے پیار پر انسان کوئی پابندی نہیں لگا سکتا۔ہم تو ظاہر پر پابندی لگاتے ہیں۔باطن پر نہ ہم پابندی لگا سکتے ہیں اور نہ یہ ہمارا حق ہے یعنی ہمیں اس کی طاقت ہے نہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حق دیا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بعض کنچنیاں بھی بعض نیکیوں کی وجہ سے جنت میں چلی جائیں گی۔اسی طرح آپ نے دوسرے گناہ گاروں کے نام لئے ہیں کیونکہ جنت کے دروازے اللہ تعالیٰ کی رحمت کھولتی ہے انسان کا عمل نہیں کھولتا یہ بات نہیں بھولنی چاہیے۔اس لئے اگر چہ بظاہر دنیوی لحاظ سے، مادی اصول کے مطابق حالات پریشان کن ہیں۔جب ہم مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے لیکن جب ہم ان مادی اشیاء سے اپنی نظریں اُٹھا کر آسمان کی طرف لے جاتے ہیں تو آسمان کے اوپر ہمیں خدا تعالیٰ کے پیار کا جلوہ نظر آتا ہے۔جب ہم دنیا کی ڈرانے والی آوازوں سے اپنے کانوں کو بند کر لیتے ہیں تو ہمارے کانوں میں خدا تعالیٰ کی پیاری آواز آتی ہے۔گھبراتے کیوں ہو؟ انی قریب میں تو تمہارے پاس کھڑا ہوں۔پھر تمہیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کی توفیق بخشے اور خدا کرے کہ ہمارے لئے اسی کی رحمت اور فضل نہ کہ ہمارا کوئی عمل اس کی جنتوں کے، اس کے پیار کے اور اس کی رضا کے دروازوں کو کھولنے والا ہو۔(روز نامه الفضل ربوه ۴ / دسمبر ۱۹۷۱ء صفحه ۲ تا ۴)