خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 502

خطبات ناصر جلد سوم ۵۰۲ خطبہ جمعہ ۵ /نومبر ۱۹۷۱ء ہوتے دیکھے ہیں اور غریب مزدور لکھ پتی بنتے پائے ہیں لیکن ایک تجارت ایسی ہے جس میں گھاٹے کا امکان ہی نہیں۔ہلاکت کی ہوائیں اس پر نہیں چلتیں اور یہ وہ تجارت ہے جو انسان اپنے اللہ تعالیٰ سے کرتا ہے۔جیسا کہ اس آیت میں جو میں نے پڑھی ہے، بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ غور اور تدبر سے اور خلوص نیت سے اس کامل اور مکمل کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، دو بنیادی صفات ان میں پیدا ہوتی ہیں ایک یہ کہ وہ اس حقیقت پر کھڑے ہوتے ہیں کہ دعا کے بغیر انسان کی زندگی نہیں اور اقامة الصلوۃ نتیجہ ہے اس کتاب پر غور کرنے کا اور اس کے مطابق عملی زندگی گزارنے کی نیت اور عزم کرنے کا اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے اس کی راہ میں ہر اُس چیز میں سے جو اسی کی عطا ہے، اُس کے حضور پیش کرنا ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے بشارت یہ دی کہ میری ہی چیز میری طرف لوٹا ؤ گے میں اسے تجارت سمجھوں گا جو تم میرے ساتھ کر رہے ہو اور جو میرے ساتھ تجارت کرتا ہے وہ گھاٹے میں نہیں رہ سکتا۔اس لئے اپنے راز کو راز رکھنے کے لئے میری عطا کا ایک حصہ خفیہ اور پوشیدہ طور پر میری راہ میں خرچ کرو اور اپنے بھائیوں کو توجہ دلانے اور ترغیب دینے کے لئے اور دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ خدا تعالیٰ سے تجارت کرنے والا شخص گھاٹے میں نہیں رہتا میری عطا کا کچھ حصہ ظاہری طور پر میری راہ میں خرچ کرو۔اس حکم پر عمل کرتا تھا پہلے زمانے کا مسلمان ، اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔آج کے مسلمان کو بھی۔امیر لوگ بہت خرچ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کافی مال اور دولت دی تھی وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال قربان کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور جو غریب آدمی تھا ، جو چوٹی دے سکتا تھا ، جو دوئی دے سکتا تھا ، جو پیسہ دے سکتا تھا ، وہ ظاہر پیسہ دے دیتا تھا اور اس میں اُسے کوئی حجاب اور شرم نہیں ہوتی تھی۔اس کو جو فائدہ تھا وہ تو تھا لیکن منافق امیر پر طنز کرتا تھا اور غریب پر تمسخر کرتا تھا۔امیر کو کہتا تھا تم دکھاوے کے لئے یہ ا موال دے رہے ہو اور غریب کو کہتا تھا تمہارے دھیلے سے خدا تعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچے گا جہاں تک فائدے کا سوال ہے، نہ امیر کی