خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 498
خطبات ناصر جلد سوم ۴۹۸ خطبہ جمعہ ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۱ء ہے، انہوں نے ایک وقت میں ہزار روپے فی کس دیئے تھے مگر اب نہیں دے سکے۔اُن کا عذر معقول بھی ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں حسنِ ظنی ہی سے کام لینا چاہیے لیکن بعض آدمی ایسے بھی ہیں جو وعدے لکھوا دیتے ہیں مگر پھر پورا نہیں کرتے اور ان کی وجہ سے وعدے اور اصل آمد میں فرق پڑ جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مثلاً آپ نے اپنے کاموں کا منصوبہ تو شروع سال میں ان وعدوں کے مطابق بنا یا مثلاً پانچ لاکھ روپے کی یا دس لاکھ روپے کی یا نہیں لاکھ روپے کی آمد ہوگی اور اس کے مطابق ہم فلاں فلاں کاموں پر خرچ کریں گے لیکن اگر دوران سال اتنے پیسے نہیں آتے تو آپ کے کاموں پر اثر پڑے گا۔کام کی رفتار میں کمی آجائے گی اور کسی قوم کا بحیثیت قوم عزم کر لینا اور پھر اسے پورا نہ کرنا بڑی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے جب تک ایسے لوگ تعداد میں تھوڑے سے ہیں اس وقت تک تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن اگر خدانخواستہ یہ ایک رو جاری ہو جائے تو اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔پس محض دعوی بے معنی ہے جب تک کہ مخلصانہ عمل شامل حال نہ ہو۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ ایسا شخص جس کی نیت نہیں ہے دینے کی ، وہ وعدہ ہی نہ کرے لیکن جس کی نیت ہے دینے کی اگر بعد میں اس کے حالات بدل جاتے ہیں، جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں ، وہ زیر الزام نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ ایسے بھائیوں اور بہنوں کے حالات درست کرے اور اُن کے مالوں میں اور بھی زیادہ برکت ڈالے لیکن جس شخص کی پہلے دن سے دینے کی نیت نہیں۔صرف دعوی ہے، وہ اپنے آپ کو دو ہری مصیبت میں ڈال رہا ہے اور استغفار کے علاوہ اس کے بچنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے پس ایسے لوگوں کو استغفار کرنا چاہیے اور وعدہ نہیں لکھوانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا مال ہے وہ تو دیتا چلا جا رہا ہے آگے سے بڑھ کر دیتا چلا جا رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے پانچ سال میں جماعت کی آمد مجموعی طور پر تین گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے یہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔اس میں نہ میری کوئی خوبی ہے اور نہ آپ کی کوئی خوبی ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔پس دینے والا تو بڑا دیا لو ہے لیکن اپنے دلوں میں فتور پیدا کر کے ہم میں سے بعض خدا تعالیٰ کے ثواب اور اس کے پیار سے محروم ہو جاتے ہیں اس لئے وہ راہیں جو اللہ تعالیٰ کو غصہ