خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page v
||| بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ پیش لفظ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفہ امسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے خطبات جمعہ کی تیسری جلد پیش خدمت ہے۔یہ جلد ۱۹۷۰ ء اور ۱۹۷۱ء کے فرمودہ خطبات جمعہ پر مشتمل ہے جن میں ۱۹۷۰ء کے بارہ غیر مطبوعہ خطبات بھی شامل ہیں۔خلیفہ وقت کا ہر خطبہ علوم ومعارف کا خزانہ ہوتا ہے تاہم بعض خطبات کی تاریخی اہمیت بھی ہوتی ہے۔اس جلد میں مندرجہ ذیل خطبات جماعتی نقطہ نگاہ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔۹رجنوری ۱۹۷۰ ء کے خطبہ جمعہ میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دو چیزیں ہمارے پاس اپنی ہوں۔ا۔ایک تو ہمارے پاس ایک بہت اچھا پریس ہو۔۲۔ایک طاقتور ٹرانسمٹنگ اسٹیشن (TRANSMITTING STATION) دُنیا کے کسی ملک میں جماعت احمدیہ کا اپنا ہو جو ساری دُنیا میں اشتراکیت اور کمیونزم کا پر چار کرنے والے اسٹیشن سے زیادہ طاقت ور اسٹیشن ہو جو خدا کے نام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو دُنیا میں پھیلانے والا ہو اور چوبیس گھنٹے اپنا یہ کام کر رہا ہو۔( الحمد للہ ! حضور کی یہ خواہش اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کے قیام سے پوری فرما دی ہے۔مرتب)