خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 481 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 481

خطبات ناصر جلد سوم ۴۸۱ خطبہ جمعہ ۱۵/اکتوبر ۱۹۷۱ء ہے اس لئے کہ وہ عین اسلام کے مطابق ہے اور انہوں نے جو امیدیں وابستہ کی ہیں اُمت محمدیہ سے وہی امیدیں وابستہ کرنی چاہئیں۔یہ جنگ اگر چہ بظاہر اسلام کو مٹانے کے لئے تو نہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ مسلمانوں کو مٹانے کے لئے ہے اور اگر خدانخواستہ ساری دنیا کے مسلمان مٹ جائیں تو اس سے اسلام پر بہر حال ضرب آتی ہے پس گو یہ جنگ عقیدہ بدلنے کے لئے نہیں ہے لیکن اسلام دشمنی کے نتیجہ میں مسلمان سے جو بغض اور حسد ان کے دل میں ہے اس کے نتیجہ میں یہ سارے غصے ہیں ور نہ بھارت ہمسایہ ملک تھا۔ہمسایوں کی طرح اسے رہنا چاہیے تھا۔پس اس وقت آپ نے اپنے مال سے بھی ، وقت سے بھی اور اپنی ہر قسم کی مادی قربانیوں سے بھی اور اپنی دعاؤں سے بھی اپنے ملک کی خدمت، اپنی حکومت کی خدمت اور اپنے بھائیوں کی خدمت کرنی ہے اور اسی کی طرف میں اس وقت آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔دوست میری صحت کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ مجھے پوری صحت دے اور مرتے دم تک پورے کام کی توفیق بخشے۔بہت دعائیں کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پاکستان کو ہر قسم کے نقصان اور ہر قسم کی بے عزتی سے محفوظ رکھے اور پاکستان کو ہر قسم کی کامیابی عطا کرے اور پاکستان کے دشمنوں کے مقدر میں ساری ہی ناکامیاں ہوں۔عارضی طور پر بھی اور ہمیشہ کے لئے بھی۔بعض دفعہ عارضی طور پر بھی کچھ نقصان اُٹھانا پڑتا ہے خدا تعالیٰ پاکستان کو اس عارضی نقصان سے بھی محفوظ رکھے۔خدا کرے عارضی نقصان بھی ہمارے دشمن کے حصہ میں آئے اور پھر آخری فتح بھی پاکستان کو ملے اور آخری شکست بھی پاکستان کے دشمن کو نصیب ہو۔پس دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔حقیقت یہی ہے۔قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَا وَكُمْ - (الفرقان : ۷۸) ساری خیر اور برکت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس سے ایسا تعلق ہو جس سے مجبور ہو کر انسان کا پورا سہارا اور تو کل اس کی ذات پر کرتا اور دعا کے ذریعہ اس کی رحمت کو جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ چیز ہے جس کے نتیجہ میں انسان کو رحمت ملتی ہے۔جس کے نتیجہ میں