خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 470
خطبات ناصر جلد سوم ۴۷۰ خطبہ جمعہ ۱۵ جنوری ۱۹۷۱ء ہے وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید رحیمیت کے دست قدرت نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے یہ کامیابیاں عطا نہیں کیں بلکہ میں نے جو حاصل کیا ہے وہ اپنی تدبیر اور اپنی عقل اور اپنے ذرائع اور اپنی کوشش اور اپنی طاقت سے حاصل کیا ہے۔(اللہ تعالیٰ ایسے خیال سے محفوظ رکھے ) مگر جو لوگ خدا تعالیٰ کے سچے عاشق ہوتے ہیں اُن پر جب رحیمیت کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں اور اس دنیا کی نعمتیں اور عزتیں بھی انہیں دی جاتی ہیں تو اُن کے دلوں میں اور ان کی روح کے گوشے گوشے میں بے مائیگی اور نیستی کا احساس اور بھی شدت اختیار کر جاتا ہے۔یہ احساس بے مائیگی اور نیستی ایک مومن کی جان اور اللہ کے عاشق کی روح ہے۔یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ اس کے فضلوں اور رحمتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ہمارا رب صمد اور غنی ہے۔اُسے کسی شخص کی اور کسی شئے کی احتیاج نہیں لیکن ہم ہر آن اور ہر لحظہ اس کے محتاج ہیں۔کوئی چیز بھی تو اس دنیا میں ایسی نہیں جو اس کے فضل کے بغیر حاصل کی جاسکتی ہو جب تک آسمانوں سے اس کا فیصلہ نہ ہو اس وقت تک نہ کوئی عزت مل سکتی ہے، نہ کوئی رتبہ پایا جاسکتا ہے، نہ مال ملتا ہے، نہ خوشی اور مسرت حاصل ہوتی ہے۔یہ حقیقی عزتیں اور وہ اموال جو بھلائی اور خیر کا موجب بنتے ہیں اور وہ جتھہ اور خاندان جس سے انسان حقیقی مسرتیں حاصل کرتا ہے۔یہ حقیقی عزتیں اور مسرتیں اسی کو ملتی ہیں جو خود کو بے مایہ اور نیست سمجھے اور ہر چیز کے ملنے پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا احساس پیدا کرے اور ہر نعمت میں اس کے پیار کا جلوہ اسے نظر آئے۔اللہ تعالیٰ نے گذشتہ برس اندرونِ پاکستان بھی اور بیرونی ممالک میں بھی جماعت احمد یہ پر بڑے ہی فضل نازل کئے۔اُس نے بشارتیں بھی دیں اور بشارتوں کو پورا بھی کیا۔اللہ تعالیٰ کی اتنی رحمتیں جماعت احمدیہ اور اس کے افراد پر نازل ہوتی ہیں کہ اُن کا گنا ممکن ہی نہیں وہ تو شمار میں آہی نہیں سکتیں۔جب میں ان فضلوں کو دیکھتا ہوں تو میرے دل میں یہ خوف بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں جماعت کا کوئی حصہ کبر و غرور کی بیماری میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کے قہر اور غضب کا وارث نہ بن جائے اس لئے میں آج بڑوں اور چھوٹوں، مردوں اور عورتوں کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ