خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 451 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 451

خطبات ناصر جلد سوم ۴۵۱ خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۷۰ء غرض جو پارٹی اس وقت سب سے زیادہ کامیاب ہوئی ہے اور جس نے ہم سے سب سے زیادہ خدمت لی ہے اور ووٹ لئے ہیں اس کے متعلق دوسروں کا خیال ہے ( میرا جو خیال ہے وہ اس سے زیادہ ہے۔مجھے بعض رپورٹیں لاہور سے آئی ہیں کہ اب ) وہ کہتے ہیں کہ یہ ( پیپلز پارٹی والے ) اس واسطے جیت گئے کہ پندرہ لاکھ احمدی ووٹر اُن کے ساتھ شامل ہو گیا تھا۔ہم نے کہیں مردم شماری نہیں کرائی اس واسطے کہ نہیں سکتے کہ پندرہ لاکھ احمدی ووٹر تھے لیکن احمدی اور احمد یوں کے دوست اور تعلق رکھنے والے ووٹر جو اس پارٹی کو ملے وہ میرے اندازے کے مطابق پندرہ لاکھ نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہیں۔ان مہینوں میں جو پیچھے گزرے ہیں، لوگوں میں جوش بھی تھا غلط باتیں بھی ہورہی تھیں اور اس عہد کو تو ڑا بھی جا رہا تھا جو خدا نے اپنے بندوں یا اُمت مسلمہ سے لیا تھا۔کہ دیکھو! معمولی معمولی اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں کو ان کے سیاسی ، معاشرتی اور اقتصادی حقوق سے محروم نہ کرنا۔ورنہ اس کے نتیجہ میں رحمت نہیں پیدا ہوگی۔میرے پاس جولوگ آتے تھے۔میں ان کو سمجھاتا تھا کہ دیکھو! ہم ایک غریب جماعت ہیں دنیوی لحاظ سے ایک بے سہارا جماعت، ایک ایسی جماعت کہ جو ہزار کے مقابلے میں اگر ایک پتھر پھینکنے کی طاقت رکھتی ہے تو وہ بھی نہیں پھینک سکتی ، کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پتھر کا جواب پتھر سے نہیں دینا۔اگر کروڑ گالیاں بھی ہمیں دی جاتی ہیں تو اگر کوئی نوجوان جوش میں آکر ایک گالی اس کروڑ کے مقابلہ میں دینا چاہتا ہے تو اس کے دماغ میں یہ بات مسلط ہو جاتی ہے کہ ہمارے امام اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا تھا کہ گالیاں سُن کر دعا دو اس کی زبان پر ایک بات آتی ہے، وہیں رُک جاتی ہے وہ اپنے مونہہ سے نہیں نکالتا۔ان تمام حالات کے باوجود ۸۰ سالہ گالیوں اور ۸۰ سالہ کفر کے فتووں نے نہ ہمارے چہروں سے مسکراہٹیں چھینیں اور نہ ہم سے قوت احسان کو چھینا۔ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتے اور مسکراتے ہوئے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔کوئی شخص خواہ وہ ساری عمر گالیاں دیتا رہا۔جب بھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دروازے پر آیا تو خالی ہاتھ واپس نہیں گیا۔