خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 33

خطبات ناصر جلد سوم ٣٣ خطبہ جمعہ ۲۳ جنوری ۱۹۷۰ء غیر متناہی ترقیات کی خواہش ایک بڑی پاک چیز تھی لیکن جب شیطان نفس کو در غلاتا اور اسے صراط مستقیم سے دور لے جاتا ہے تو وہی عظیم خواہش جو انسان کی عظمت کے لئے اسے دی گئی تھی وہ اس کی ذلت اور رسوائی کا سبب بن جاتی ہے بہر حال انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پیدا کی ہے کہ وہ ان رفعتوں کے حصول میں جو اس نے اپنے بندے کے لئے پیدا کی ہیں کسی جگہ پر بھی پہنچ کے مطمئن نہ ہو جائے بلکہ چونکہ قرب کے غیر متناہی راستے اس کے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔اس لئے وہ ایک رفعت کے حصول کے بعد اس سے بلند تر مقام پر پہنچنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے بعض جلووں کے مشاہدہ کے بعد اس کی محبت کے اور بھی روشن تر اور حسین جلوے دیکھنے کی اپنے اندر خواہش پیدا کرے اور ترقیات کے ان غیر متناہی راستوں پر چلتے ہوئے وہ اپنے رب کے قرب کو زیادہ سے زیادہ پائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرے۔یہ خواہش جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں پیدا کی ہے اس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر تم اپنے نفس کا محاسبہ کرو تو تم میں سے ہر ایک شخص یہ جان لے گا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش عطا کی ہے کہ وہ اس کی زیادہ سے زیادہ رضا کو حاصل کر سکے۔پس سوال پیدا ہو گا کہ اللہ کی رضا کو اور حقیقی مسرتوں کو اور خوشیوں کو اور کامیابیوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کا طریق کیا ہے اور وہ کونسی ہستی ہے جو ہمیں زیادہ سے زیادہ عطا دے سکتی ہے؟ چنانچہ ان آیات میں جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے إِنَّ اللهَ عِندَةٌ اجُرُ عَظِيمٌ - (التوبة: ٢٢) یعنی تمہاری اس خواہش کی تکمیل اس ہستی سے وابستہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہاری قوتوں اور ضرورتوں کا علم رکھتا ہے اور وہ ہر قسم کی قوت اور قدرت اور تصرف کا مالک ہے کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے آگے انہونی ہو یا جو اس کی قدرت میں نہ ہو یا جو اس کے تصرف سے باہر ہو وہ اللہ ہے تمام صفاتِ حسنہ سے متصف اور ہر قسم کی کمزوری اور ضعف سے پاک اور مطہر۔پس تمہاری اس خواہش کی تکمیل کہ تم ترقیات میں، تم رفعتوں کے حصول میں، تم حقیقی عزتوں کے