خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 420
خطبات ناصر جلد سوم ۴۲۰ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء سے طیب اور اپنے مناسب حال چیزوں کو استعمال کرو گے تو تمہاری جسمانی طاقتیں نشو و نما کرتی ہوئیں اپنے کمال کو پہنچ جائیں گی اب مثلاً ایک بچہ ہے اس کی جسمانی ضرورت الگ ہے۔بعض دفعہ وہ چنے کھانا چاہتا ہے اور ماں باپ کہتے ہیں کہ نہیں ہم تمہیں دودھ پلائیں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے قانون اور ماں باپ کی خواہش کے درمیان لڑائی ہو جاتی ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اس کے ماں باپ غلط اندازہ لگاتے ہیں اور غلط بات جاری کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک واقعاتی چیز ہے یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے۔میں ایسے واقعات کا شاہد ہوں کہ بچے کو دست آرہے ہیں اور وہ کہتا ہے میں نے چنے کھانے ہیں۔ماں باپ کہتے ہیں کہ یہ بچہ پاگل ہے۔ہم نے اس کو چنے نہیں دینے مگر وہ چنے کھانے پر بضد ہے۔کوئی سمجھدار کہتا ہے کہ یہ دوسال کا ناسمجھ بچہ ہے یہ چنے کھانے کی آواز اس کے اندر کی آواز ہے اسے چنے کھانے دو چنانچہ اسے چنے کھانے کی اجازت دی گئی اور بچے کے اسہال بند ہو گئے۔پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر فرد واحد اپنے اندر ایک انفرادیت رکھتا ہے اور اس طرح جوتنوع پیدا ہوتا ہے یہ خدا کی واحدانیت کی ایک دلیل ہے۔ہر جگہ آپ کو تنوع نظر آتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اپنی ذات میں اور یکتا ہے اپنی صفات میں۔ویسے ہمارا علم اور عقل چونکہ محدود ہے ہم بعض اصول بنا لیتے ہیں اور چیزوں کی گروپنگ کر دیتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے ہر فرد واحد کے جسم کی بناوٹ اپنی انفرادیت کی وجہ سے غذاؤں کے ایک خاص قسم کے مجموعہ کو چاہتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ایک اور قانون کے مطابق غذاؤں کا جو balance ( بیلنس یعنی توازن ) ہے اسے قائم رکھنے ہی سے انسان کی جسمانی قوتوں کی بہترین نشو ونما ہو سکتی ہے ورنہ توازن قائم رکھنے کے بغیر نشو و نما کمال کو نہیں پہنچ سکتی۔ویسے بہترین نشو ونما اور واقعاتی نشو ونما میں انیس بیس کا فرق بھی رہ سکتا ہے اور دس بیس کا فرق بھی رہ سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر فرد واحد کی جسمانی قوتوں کی نشو و نما کے لئے متوازن غذا بننے کے لئے غذا کی جن اقسام کی ضرورت تھی وہ میں نے پیدا کر دی ہیں۔انسان اگر ان ہزاروں چیزوں کی باریکیوں میں جائے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔انسان کا تخیل وہاں تک پہنچ ہی نہیں