خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 31
خطبات ناصر جلد سوم ۳۱ خطبه جمعه ۲۳ جنوری ۱۹۷۰ء انسان کے اندراجر عظیم یعنی لامتناہی ترقیات کی خواہش ودیعت کی گئی ہے۔خطبه جمعه فرموده ۲۳ / جنوری ۱۹۷۰ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں :۔الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللهِ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْفَابِرُونَ - يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ b وَجَنَّتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ - خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا إِنَّ اللَّهَ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ - (التوبة: ۲۰ تا ۲۲) اس کے بعد فرمایا۔گزشتہ چند روز میری طبیعت خراب رہی ہے اچانک دورانِ سر کا حملہ ہوا اور وہ اتنا شدید تھا کہ احساس یہ تھا کہ یہ دنیا اس شدت اور تیزی کے ساتھ چکر کاٹ رہی ہے کہ جیسے میرے وجود کو باہر پھینکنا چاہتی ہے اور اس کی وجہ سے کافی تکلیف اُٹھانی پڑی۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا یہ تکلیف تو چند دن میں دُور ہوگئی۔لیکن اس کے ساتھ ہی اور پھر اس کے بعد تک خون کے دباؤ میں قرار اور ٹھہراؤ نہ رہا یکدم ۱۲۰ سے ۱۴۵ تک چلا جاتا اور پھر یکدم گر کر ۱۱۰ - ۱۱۵ تک آجاتا میرے خون کے معمول کا دباؤ ۱۲۰۔۸۰ ہے اس اُتار چڑھاؤ کی