خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 414 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 414

خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۴ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۷۰ء کتنا ز بر دست تھا وہ پیار، کتنی عظیم تھی وہ مساوات جو عملاً مسلمان سے ظاہر ہوئی کہ ایک ایک دن میں سنتر سنترہ ہزار گردنیں کاٹنے کے باوجو دلوگ مجبور تھے کہ اپنے دل مسلمانوں کے حوالے کر دیں۔یہ معمولی بات نہیں ہے تو یہ مذہب ، یہ تعلیم، یہ عظیم کتاب جو ہمیں انسان کے دلوں کو جیتنا سکھاتی ہے۔اس تعلیم کو پس پشت ڈال کر ہم آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے اور ملک کی تباہی کے سامان پیدا کر دیں گے۔اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور جتنی چاہیں آپ یہ دعا کر سکتے ہیں اور یہ دعا آپ کو کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آج پھر از سر نو غلبہ اسلام کے سامان پیدا کئے اور ایک نو بہار تو چودہ سو سال پہلے گذری اور ایک نو بہار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم اور محبوب ترین روحانی فرزند مهدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ آگئی۔آپ ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بنی نوع انسان کے لئے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کے اور نور کے ان پر دروازے کھولے اس اسوہ کے مطابق ہمیں تمام انسانوں کے لئے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو اپنے نور سے منور کرنے کے سامان پیدا کرے اور اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرنے کے سامان پیدا کرے۔بڑی کثرت سے یہ دعائیں کریں اور ان کو بھولیں نہ۔یہ تو ایک چھوٹی سی چیز ہے کہ بچہ بیمار ہے اس کے لئے ہم نے دعا کرنی ہے۔یہ تو ایک چھوٹی سی چیز ہے کہ قرضہ ہو گیا اس کے لئے ہم نے دعا کرنی ہے۔یہ تو ایک چھوٹی سی چیز ہے کہ فصل ہم نے بوئی ہے اور یہ دعا کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے اور دعا ہم نے اتنی چھوٹی سی چیز کے لئے بھی کرنی ہے کہ بوٹ کا تسمہ ٹوٹ گیا ہے ہم اپنی طاقت سے لے نہیں سکتے اے خدا دے۔لیکن یہ تو اصل دعا کے مقابلہ میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے دعا ہے۔اس دعا کو اسوہ بناؤ۔جس دعا نے آسمان پر شور مچایا اور اس زمین پر ایک انقلاب عظیم برپا کر دیا۔وہ دعا ئیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے لئے کیں۔ویسی ہی دعائیں کرو پھر جو صحابہ نے پایا آپ بھی پالیں گے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو اس کی توفیق دے۔(اللهم آمین) (روز نامه الفضل ربوه ۲۵ جون ۱۹۷۱ ء صفحه ۳ تا ۶)