خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 409
خطبات ناصر جلد سوم ۴۰۹ خطبہ جمعہ ۴/دسمبر ۱۹۷۰ء بے توجہی نے یا عدم تربیت نے وہ فطرت مسخ کر دی۔انسانی فطرت صحیحہ ہے۔یہ نہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دوسری مخلوق کی طرح اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ غیر کی پرواہ نہ کرے اور ساری مخلوق خصوصاً بنی نوع انسان کے لئے قربانی نہ دے۔یہ فطرت کے اندر ہے اس لئے قرآن کریم نے اس کے متعلق یہ فرما یا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ “ کہ مومن جن کی فطرت صحیحہ ہے جو ہم نے ان کو دیا ہے وہ دوسروں کے لئے خرچ کرتے ہیں۔یہ فطرتی تقاضا ہے۔انسان اس سے رہ نہیں سکتا۔اگر فطرتِ صحیحہ ہو اور غیر تربیت یافتہ یا مسخ شدہ نہ ہو تو ایک مومن مسلمان مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ پر عمل کرتا ہے۔کئی جگہ فرمایا کہ یہ کرو مگر یہاں یہ فرمایا کہ انسانی فطرت میں یہ ہے کہ جو بھی ہم نے ان کو دیا ہے وہ اپنی نوع کے لئے اپنے بھائیوں کے لئے اسے خرچ کرتے ہیں اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں دو قسم کے عطا یا نظر آتے ہیں ایک وہ کہ جتنا ہم چاہیں اتنا ہم خرچ نہیں کر سکتے اور دوسرے وہ کہ جتنا ہم چاہیں ہم غیر کے لئے دے سکتے ہیں اور کوئی روک نہیں ہے۔پہلی قسم ہے اموال کی۔اب مشرقی پاکستان میں ہمارے بھائیوں پر ایک ہولناک ابتلا اور امتحان (سمندری طوفان ) آیا وہ بڑی مصیبت سے گزرے۔اگر جو ہم چاہتے ہیں وہ دے سکتے تو احمدی تو ساری دنیا کی دولت اکٹھی کر کے مشرقی پاکستان کے بھائیوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیتے تاکہ ان کی کوئی تکلیف باقی نہ رہے۔لیکن یہ غریب جماعت جو چاہتی تھی وہ نہیں کر سکتی تھی۔جتنا خدا نے مال دیا اس کا ایک حصہ ہی دے سکتے ہیں اور ہزار قسم کی ذمہ داریاں ہیں۔کچھ اس میں سے بچایا تکلیف بھی اٹھائی اور دیا لیکن جتنا چاہتے تھے اتنا نہیں دے سکے۔ایک تو اس قسم کی خدمت ہے کہ انسان چاہتا تو بہت زیادہ ہے لیکن عملاً وہ کر نہیں سکتا لیکن ایک دوسری چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔ایک دوسری دولت ہے۔ایک دوسری عطا ہے۔ہم جتنا چاہیں ہم دے سکتے ہیں۔مثلاً دعا ہے جتنی چاہیں ہم دعا کر سکتے ہیں۔کوئی روک نہیں۔پس ایک قسم تو وہ ہے کہ جتنا چاہیں وہ نہیں دے سکتے۔دوسری وہ ہے کہ جتنا چاہیں وہ دے سکتے ہیں اور اس کی طرف ہی اس وقت اپنے بھائی، بہنوں، بچوں اور بچیوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں ہم مالی لحاظ سے اپنی خواہش اور تڑپ کے مقابلہ میں بہت حقیر چیز پیش کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر