خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 29
خطبات ناصر جلد سوم ۲۹ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۷۰ء سے بھی خدمت لیں گے اور اس طرح سب علوم کی باتیں آجائیں گی فلسفہ کی غلطیاں بھی ہم نکالیں گے ( ایگریکلچر AGRICULTURE ) زراعت کے متعلق بھی ہم لوگوں کو کہیں گے کہ یہ یہ کام کرو تا دنیا میں بھی خوشحالی تمہیں نصیب ہو۔انشاء اللہ یہ کام تو ہم کریں گے لیکن گانے اور ڈرامے اور اس قسم کی دوسری جھوٹی باتیں وہاں نہیں ہوں گی اور اس طرح ایک ریڈیو دنیا میں ایسا ہو گا جہاں اس قسم کی کوئی لغو بات نہیں ہوگی اور شاید بعض لوگ اس ریڈیو اسٹیشن کو هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: ۴) کہنا شروع کر دیں۔غرض میرے دل میں یہ دو خواہشیں پیدا ہوئی ہیں ان کے لئے آپ بھی دعا کریں اور میں بھی دعا کر رہا ہوں۔انسان بڑا ہی عاجز اور کمزور ہے اور ہر نئی بات جو دل میں ڈالی جاتی ہے وہ ہمارے ضعف اور عاجزی کو اور بھی نمایاں کر کے ہمارے سامنے لے آتی ہے اور پہلے سے بھی زیادہ انسان اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے اور اپنی کم مائیگی کا اقرار کرتا ہے اور ہر قسم کی طاقتوں کا اُسے سر چشمہ اور منبع قرار دے کر اور اُس کی حمد وثناء کرتے ہوئے اس سے یہ بھیک مانگتا ہے کہ اے میرے رب تو نے جو کام میرے سپرد کیا ہے اس کے کرنے کی تو مجھے توفیق دے اور اس کے لئے اسباب مہیا کر دے۔آپ بھی دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ دونوں چیزیں ہمیں عطا کر دے اور ان دونوں میں ساری دنیا کے لئے بہت سی برکتوں کا سامان پیدا کر دے۔(آمین) (روز نامه الفضل ربوه ۱۱ارستمبر ۱۹۷۰ء صفحه ۲ تا ۸)