خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 373 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 373

خطبات ناصر جلد سوم ۳۷۳ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۰ء تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیار کے پانی سے اس تپش محبت کو ٹھنڈا کر دے اور سرور محبت عطا فرما دے۔ہمارے دلوں ، دماغوں اور روح میں سرور پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ وہ مقصد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا ہے اور جس کی ذمہ داری آج ہمارے کندھوں پر ہے ہم اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہو جا ئیں۔دنیا ہمیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔ہم سے مخالفت سے پیش آتی ہے ہمیں اس کی پرواہ نہیں جس چیز کی ہمیں پرواہ ہے وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت کو پائیں۔دنیا ہمیں پہچانتی نہیں اور چونکہ وہ ہمیں پہچانتی نہیں اس لئے ہزار قسم کے جھوٹ ہمارے خلاف بولے جار ہے ہیں ہر شخص اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ وہ ہمارے خلاف زبان دراز کرے اور ہمارے خلاف جتنا چا ہے جھوٹ بولے اور دنیا کی سب طاقتیں ہمارے خلاف مجتمع ہو گئی ہیں اور اکٹھی ہو گئی ہیں۔وہ چاہتی ہیں کہ اسلام غالب نہ ہو۔لیکن خدا چاہتا ہے کہ اسلام غالب ہو یہ عیسائی اور یہ مشرک اور یہ دہر یہ اپنے ان منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے کہ اسلام کو مغلوب کر دیں اور مغلوب رکھیں۔اسلام ان پر ضرور غالب آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہی فیصلہ کیا ہے لیکن زمین پر اس نے ہم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ ہم دعا اور تدبیر کو کمال تک پہنچا کر خدا تعالیٰ کے ان وعدوں کو اپنے نفسوں میں اور اپنی زندگیوں میں پورا کرنے کی کوشش کریں۔ہم تو صرف اس حد تک کر سکتے ہیں جس حد تک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ذرائع اور اسباب عطا کئے ہیں ہم اس سے زیادہ نہیں کر سکتے لیکن دعا بھی ایک تدبیر ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعا کو اس کے کمال تک پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک شخص کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ اس کے حضور جب عاجزانہ جھکے تو گریہ وزاری اور سوز و گداز کو انتہا تک پہنچا کر ایک ایسی آگ اپنے گرد جلا دے اور اس آگ کو اتنا تیز کر دے کہ اس کا نفس باقی نہ رہے اور اپنے اوپر ایک موت وارد کر دے تا کہ اللہ تعالیٰ سے ایک نئی زندگی حاصل کرنے والا ہو اور اس نئی زندگی پانے کے بعد اسے اس رنگ میں اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت ملے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض پوری ہو جائے پس دعاؤں کی طرف بہت ہی توجہ دیں اور ہماری حقیقی دعا یہی ہے کہ اے خدا! جیسا کہ تو نے چاہا ہے ہمیں توفیق دے