خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 371
خطبات ناصر جلد سوم خطبه جمعه ۹/اکتوبر ۱۹۷۰ء جیسی عظیم ہستی سے انہیں پیار نہیں۔دنیا اللہ اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہے ہزار بدظنیاں ہیں، ہزار جہالتیں ہیں، جو غلط خیالات اور غلط تصورات دل میں جھاتی ہیں تعصبات ہیں، یہ احساس ہے کہ انہیں سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے اسلام کو کمزور کر نے اور اس کے حسن کو چھپانے کے لئے بے شمار منصوبے بنائے جاتے ہیں تمام دنیا کی طاقتیں اسلام کے مقابلہ پر اکٹھی ہوگئی ہیں۔ہمارے دل میں بنی نوع کی محبت ہے اس لئے ان کو جہنم کی آگ سے بچانا بڑا اہم اور بڑا ضروری ہے۔ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم آپ کی بعثت کی غرض کو پورا کرنے کے لئے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کرنے والے ہوں۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں خبر دار کیا ہے کہ ہم عاجز اور کمزور ہیں۔ہمیں اپنی ذات پر یا اپنی طاقتوں پر یا اپنے علم پر یا اپنی فراست پر یا اپنے جتنے پر بھروسہ نہیں رکھنا چاہیے۔کیونکہ ظاہری لحاظ سے دنیا کی دولت کے مقابلہ میں ہمارے پاس دولت تو یوں کہنا چاہیے ہے ہی نہیں اور دنیا کی طاقتوں کے مقابلہ میں ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں ہے اور دنیا کی تدبیروں کے مقابلہ میں ہماری تدبیر نہایت ہی عاجز اور کمزور ہے اور جہاں تک ہماری ذات اور ہمارے نفس کا تعلق ہے ہمیں اس احساس کو اپنے دلوں میں زندہ اور قائم رکھنا چاہیے کہ ہم لاشے محض ہیں اور انتہائی طور پر عاجز ہیں۔اگر وہ ذمہ داری جو ہم پر ڈالی گئی ہے اس کا کروڑواں حصہ بھی ہم پر ذمہ داری ہوتی تب بھی ممکن نہیں تھا کہ ہم اس ذمہ داری کو اپنی طاقت سے نبھا سکتے لیکن یہاں تو اس سے کہیں زیادہ ہم پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے یہ کوئی سہل اور آسان کام نہیں کہ تمام بنی نوع انسان کے دلوں کو خدا اور اس کے رسول کی محبت سے بھر دیا جائے اور اس طرح پر اسلام کی محنت کو ان پر پورا کر دیا جائے۔تیسری بات جو یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتائی ہے یہ ہے کہ جہاں ہمارے دلوں میں عاجزی اور بے کسی اور بے مائیگی کا احساس ہو اور شدت کے ساتھ زندہ احساس ہو وہاں ہمیں اس بات پر پختہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمام قدرتوں کا مالک اور سر چشمہ ہے اور کوئی چیز اس کے سہارے کے بغیر قائم نہیں رکھی جاسکتی اور نہ اس کی مدد اور نصرت