خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 26
خطبات ناصر جلد سوم ۲۶ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء سیکھیں پھر اور بھی بہت سارے کام ہیں جو ہم صرف اس وجہ سے نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس پریس نہیں لیکن میرے دل میں جو شوق پیدا کیا گیا ہے اور جو خواہش پیدا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ سارے پاکستان میں اس جیسا اچھا پر یس کوئی نہ ہو اور پھر اس پریس کو اپنی عمارت کے لحاظ سے اور دوسری چیزوں کا خیال رکھ کر اچھا رکھا جائے۔عمارت کو ڈسٹ پروف (DUST PROOF) بنایا جاۓ تا ہم ایک دفعہ دنیا میں اپنی کتب کی اشاعت کر جائیں۔دوسرے پریس نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کتابیں مہنگی پڑتی ہیں اگر اپنا پریس ہوگا اور اس کو بہر حال نفع کے اصول پر نہیں چلایا جائے گا بلکہ اسے ضرورت پورا کرنے کے اصول پر چلا یا جائے گا تو جو کتاب مثلاً قرآن کریم کی ایک جلد اس وقت ہمیں اگر تیس روپے میں پڑتی ہے تو ممکن ہے کہ پھر وہ بیس روپے میں یا پچیس روپے میں پڑ جائے اور جتنی اس کی قیمت کم ہوگی اتنی اس کی اشاعت زیادہ ہوگی یہ اقتصادیات کا ایک اصول ہے پس دعا کریں کہ جس رب نے جو عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے دنیا کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان کو پورا کرنے کے لئے میرے دل میں یہ خواہش پیدا کی ہے وہی اپنے فضل سے اس خواہش کو پورا کرنے کے سامان بھی پیدا کرے۔دوسری خواہش جو بڑے زور سے میرے دل میں پیدا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک طاقتور ٹرانسمٹنگ اسٹیشن (TRANSMITTING STATION) دنیا کے کسی ملک میں جماعت احمدیہ کا اپنا ہو اس ٹرانسمٹنگ اسٹیشن کو بہر حال مختلف مدارج میں سے گزرنا پڑے گا لیکن جب وہ اپنے انتہاء کو پہنچے تو اس وقت جتنا طاقتورروس کا شارٹ ویواسٹیشن (SHART WAVE STATION) ہے جو ساری دنیا میں اشتراکیت اور کمیونزم کا پر چار کر رہا ہے اس سے زیادہ طاقتور اسٹیشن وہ ہو جو خدا کے نام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی را شان کو دنیا میں پھیلانے والا ہو اور چوبیس گھنٹے اپنا یہ کام کر رہا ہو اس کے متعلق میں نے سوچا کہ امریکہ میں تو ہم آج بھی ایک ایسا اسٹیشن قائم کر سکتے ہیں وہاں کوئی پابندی نہیں ہے جس طرح آپ ریڈیو ریسیونگ سیٹ (RADIO RECEIVING SET) کا لائسنس لیتے ہیں اسی طرح آپ براڈ کاسٹ (BROAD CAST) کرنے کا لائسنس لے لیں وہ آپ کو