خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 364 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 364

خطبات ناصر جلد سوم ۳۶۴ خطبه جمعه ۱٫۲ کتوبر ۱۹۷۰ء ایسے ممالک سے مجھے امید ہے کہ باہر والے بیس لاکھ روپیہ ادا کر دیں گے ان کے متعلق تو مجھے امید ہے لیکن پاکستان کے متعلق مجھے یقین ہے کہ یہ پینتالیس لاکھ سے زیادہ رقم دے سکتے ہیں اگر نہ دیں تو ان کی سستی ہوگی اللہ تعالیٰ کے فضل کی کمی اس کا نتیجہ نہ سمجھی جائے گی تو سُستیاں دور کر و باسٹھ لاکھ (کم از کم ) دے دینا چاہیے باقی ہمارا قدم تو آگے ہے اور اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہے کہ جو کچھ اس نے قبول کر لیا ہے اگر ہم زندگی بھر الحمدللہ پڑھتے رہیں تو اس کی قبولیت کا شکر ادا نہیں کر سکتے ایبٹ آباد میں ہمارے بچوں کو پتہ لگا کہ ایک دوست کے پاس حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ۱۹۵۵ء کی تقریر ریکارڈ کی ہوئی ہے وہ اسے لے آئے میں نے بھی سنی ساری رات سوچتا رہا اور الحمدللہ بھی پڑھتا رہا خدا کی شان دیکھو کہ ۱۹۵۵ء میں ایک غیر ملکی مہم کے لئے (باہر کسی ملک میں کوئی کام تھا) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ساری جماعت سے پینتیس ہزار روپیہ جمع کرنے کی تحریک کی اور یہ کہا کہ اگر جماعت پینتیس ہزار روپیہ مجھے دے دے گی تو یہ کام ہو جائے گا اب پاکستان میں بھی بہت سارے دوست ہیں انگلستان کے دو دوستوں کے چندے اتنے ہیں کہ جن کی مقدار پینتالیس ہزار بنتی ہے اور وہ دو دوست ایسے ہیں جو دے چکے ہیں میں ایسے دو کے متعلق بتا رہا ہوں ان کا نام نہیں لے رہا کہ جنہوں نے نقد دے دیا ایک نے پورے کا پورا اور ایک نے اپنے وعدہ کا پانچواں حصہ دے دیا اور یہ رقم بنتی ہے (ایک کا پانچواں حصہ اور دوسرے کا پورا ادا کر دینے کے بعد ) پینتالیس ہزار حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس وقت ساری جماعت سے اپیل کی تھی کہ پینتیس ہزار دو تو یہ کام ہو جائے گا۔یہ ۱۹۵۵ء کی بات ہے بڑی دور کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے پندرہ سال کے اندراندرساری جماعت پر اتنا فضل کیا ہے کہ ان کی دولت کو کہیں سے کہیں تک بڑھادیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ ان کے اموال میں برکت دوں گا ان کے اموال میں بڑی نمایاں برکت ہمیں نظر آئی مثال کے طور پر یہ جو نصرت جہاں ریز روفنڈ کا چندہ ہے اس میں ایک آدمی تین گنے کا وعدہ کر کے بیس ہزار میں سے نقد بھی ادا کر دیتا ہے اور اخلاص میں بھی برکت پیدا ہوئی۔ہمارے ملک کے لحاظ سے ہمارا ملک ایک غریب ملک ہے